سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 671 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 671

سیرت المہدی 671 حصہ سوم دوزانو ہو جایا کرتے تھے۔یہ دُعا کے وقت حضور کا ادب الہی تھا۔737 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب نے کئی دفعہ فرمایا کہ بندہ جب تنہائی میں خدا کے آگے عاجزی کرتا ہے اور اس سے دعا کرتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے تو اگر اس حالت میں کوئی دوسرا اس پر مطلع ہو جائے تو اس کو اس سے زیادہ شرمندگی ہوتی ہے جتنی کہ اگر کسی بدکار کو کوئی عین حالت بدکاری میں دیکھ لے تو اُسے ہوتی ہے۔اُسے قتل ہو جانا اور مر جانا بہتر معلوم ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ اس کی اس حالت پر کوئی غیر مطلع ہو جائے۔خاکسار عرض کرتا ہے یہ بات عام عبادت اور عام دُعا کے لئے نہیں ہے بلکہ تنہائی کی خاص دعا اور خشوع خضوع کی حالت کے متعلق ہے جبکہ بندہ گویا ننگا ہوکر خدا کے سامنے گر جاتا ہے۔738 بسم الله الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔کہ ایک دن رسول خدا صلے اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ نے پچھلی رات اپنے بستر میں نہ پایا۔اُٹھ کر دیکھا تو آپ گھر میں موجود نہ تھے۔انہوں نے خیال کیا کہ شاید کسی اور بیوی کے گھر میں تشریف لے گئے ہونگے چنانچہ وہ دبے پاؤں تلاش کرتی ہوئی باہرنکلیں تو دیکھا کہ آپ قبرستان میں زمین پر اس طرح پڑے تھے جس طرح فرش پر کوئی چادر بچھی ہوئی ہو۔اور خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرما رہے تھے۔سَجَدَتْ لَكَ رُوحِی وَجَنَانِی» یعنی اے میرے خالق و مالک ! میری رُوح اور میرا دل تیرے حضور سجدہ میں پڑے ہوئے ہیں حضرت صاحب نے فرمایا دیکھو بھلا یہ کسی مکار کا کام ہے۔جب تک سچا عاشق نہ ہو تب تک ایسا نہیں ہوسکتا۔اسی لئے تو کفار آپ کے حق میں کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلَى رَبِّہ یعنی محمد تو اپنے خدا پر عاشق ہو گیا ہے۔739 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ رمضان شریف میں تہجد پڑھنے کے متعلق حضور سے کسی نے سوال کیا یاذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ تہجد کے لئے اول وقت اٹھنا چاہئے نہ کہ عین صبح کی نماز کے ذرا قبل۔ایسے وقت میں تو کتے بھی بیدار ہو جاتے ہیں۔