سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 670 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 670

سیرت المہدی 670 حصہ سوم دوست مہاراجہ کپورتھلہ کا حال سُنا رہے تھے۔کہ سرکا ر آپ سے بہت محبت رکھتے ہیں۔حضور ان کو کوئی کتاب بھیجیں۔اس پر حضور نے فرمایا۔ہم سرکاروں کو نہیں بھیجا کرتے۔بلکہ غریبوں کو بھیجا کرتے ہیں اگر غریب لوگ اس پر عمل کرینگے۔تو اللہ تعالے ان کو ہی سر کار بنادے گا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یوں تو حضرت صاحب نے بادشاہوں اور فرمانرواؤں کے نام دعوتی مراسلات بھیجے ہیں۔کیونکہ آخر اس طبقہ کا بھی حق ہے۔مگر اس موقعہ پر آپ نے غالباً اس لئے استغناء ظاہر کیا ہوگا کہ تجویز پیش کرنے والے نے راجہ صاحب کی تبلیغ کو ایک بہت بڑی بات سمجھا ہو گا۔اور خیال کیا ہو گا کہ راجہ صاحب مان لیں تو نہ معلوم پھر کیا ہو جائے گا۔جس پر حضور نے استغناء کا اظہار کر کے غرباء کے طبقہ کو زیادہ قابل توجہ قرار دیا۔735 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ماسٹر اللہ دتا صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک شخص عبد الحق صاحب بی۔اے جولدھیانہ کے ایک مولوی کا بیٹا تھا اور عیسائی ہوگیا تھا، حضور کے پاس آیا۔اس نے دل میں کچھ سوال سوچے کہ اگر ان کے جواب میرے پوچھنے کے بغیر دے دیئے گئے تو میں مان لونگا۔سو اس وقت ایسا ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجلس میں گفتگو شروع کر کے ان سوالوں کے جواب دے دیئے۔اور وہ شخص مسلمان ہو گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں کہ حضرت صاحب نے یہ بیان کر کے کہ انہیں یہ سوال در پیش ہیں کوئی تقریر فرمائی۔بلکہ مراد یہ ہے کہ حضرت صاحب نے اس موقعہ پر ایسی تقریر فرمائی جس میں ان سوالوں کا جواب خود بخود آ گیا۔اس قسم کا تصرف الہی اور بھی متعد دروایتوں سے ثابت ہے۔736 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب مجلس میں بیعت کے بعد یا کسی کی درخواست پر دُعا فرمایا کرتے تھے تو آپ کے دونوں ہاتھ منہ کے نہایت قریب ہوتے تھے اور پیشانی و چہرہ مبارک ہاتھوں سے ڈھک جاتا تھا۔اور آپ آلتی پالتی مار کر دُعا نہیں کیا کرتے تھے بلکہ دوزانو ہوکر دُعا فرماتے تھے۔اگر دوسری طرح بھی بیٹھے ہوں تب بھی دُعا کے وقت