سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 669 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 669

سیرت المہدی 669 حصہ سوم مکان تھا۔ایک دن نواب صاحب کے اہلکار حضرت مولوی صاحب کے پاس آئے۔جن میں سے ایک مسلمان اور ایک سکھ تھا۔اور عرض کیا۔کہ نواب صاحب کے علاقہ میں لاٹ صاحب آنے والے ہیں۔آپ ان لوگوں کے تعلقات کو جانتے ہیں۔اس لئے نواب صاحب کا منشاء ہے کہ آپ ان کے ہمراہ وہاں تشریف لے چلیں۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔کہ میں اپنی جان کا مالک نہیں۔میرا ایک آقا ہے اگر وہ مجھے بھیج دے تو مجھے کیا انکار ہے۔پھر ظہر کے وقت وہ اہلکار مسجد مبارک میں بیٹھ گئے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا۔حضور نے فرمایا۔اس میں شک نہیں کہ اگر ہم مولوی صاحب کو آگ میں کودنے یا پانی میں چھلانگ لگانے کے لئے کہیں تو وہ انکار نہ کریں گے۔لیکن مولوی صاحب کے وجود سے یہاں ہزاروں لوگوں کو ہر روز فیض پہنچتا ہے۔قرآن مجید اور احادیث کا درس دیتے ہیں۔اس کے علاوہ سینکڑوں بیماروں کا ہر روز علاج کرتے ہیں۔ایک دنیا داری کے کام کے لئے ہم اتنا فیض بند نہیں کر سکتے۔اس دن جب عصر کے بعد حضرت مولوی صاحب درس قرآن مجید دینے لگے تو خوشی کی وجہ سے منہ سے الفاظ نہ نکلتے تھے۔فرمایا مجھے آج اس قدر خوشی ہے کہ بولنا محال ہے۔وہ یہ کہ میں ہر وقت اسی کوشش میں رہتا ہوں کہ میرا آقا مجھ سے خوش ہو جائے۔آج میرے لئے کس قدر خوشی کا مقام ہے میرے آقا نے میری نسبت ایسا خیال ظاہر کیا ہے۔کہ اگر ہم نورالدین کو آگ میں جلائیں یا پانی میں ڈبو دیں تو پھر بھی وہ انکار نہیں کرے گا۔733 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ماسٹر اللہ دتا صاحب نے بواسط مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جب کابل کے مہاجرین پہلے پہل ہجرت کر کے قادیان آئے تو ظہر کی نماز کے وقت کھڑکی کے پاس میں نے اور پٹھانوں نے حضرت صاحب کے لئے کپڑا بچھا دیا۔لیکن حضور دوسری کھڑکی سے تشریف لے آئے اور بیٹھ گئے۔میں نے عرض کیا۔کہ حضور ہم نے تو دوسری کھڑکی کے پاس کپڑا بچھایا تھا۔حضور نے فرمایا۔کہ چلو وہاں ہی سہی۔اور اُٹھ کر دوسری کھڑکی کے پاس تشریف فرما ہو گئے۔734 بسم الله الرحمن الرحیم۔ماسٹر اللہ دتنا صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ مسجد مبارک کی چھت پر شام کے وقت حضور تشریف رکھتے تھے۔کپورتھلہ کے ایک