سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 668 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 668

سیرت المہدی 668 حصہ سوم فرمائش پر حضرت صاحب کی خدمت میں وہ نظم پڑھی جو کہ میں نے صداقت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں لکھی تھی۔جس کے دواشعار نمونةً درج ہیں۔مثیل مسیح نے جو دعو کئی پکارا صلیب نصار کی کیا پارا پارا غلامان گروه پادری بس ہوا ہارا ہارا احمد کو آیا فرارا ان اشعار کوسُن کر حضرت اقدس بہت محظوظ ہوئے اور حضور علیہ السلام نے منہ پر رومال رکھ کر بمشکل ہنسی کو روکا۔اسی طرح حضرت مولوی نورالدین صاحب و مولوی عبدالکریم صاحب اور نواب محمد علی خانصاحب بھی بہت ہی ہنسے اور خوش ہوئے۔اس خوشی میں مجھ کو تین کتابیں (ایام اصلح۔الوصیت۔مولوی محمد احسن صاحب مرحوم کی تصنیف کردہ احادیث مسیح موعود ) بطور انعام عنایت فرمائیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ کتب کے نام کے متعلق میاں عبدالرحمن صاحب کو سہو ہوا ہے۔کیونکہ الوصیت تو لکھی ہی ۱۹۰۵ء میں گئی تھی۔یا ممکن ہے سنہ کے متعلق سہو ہوا ہو۔نیز روایت سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ انعام کس نے دیا تھا۔میرا خیال ہے کہ حضرت خلیفہ اول یا نواب صاحب نے دیا ہوگا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ میاں عبدالرحمن بیچارے شعر کے وزن و قوافی سے واقف نہیں تھے۔اس لئے بعض اوقات ان حدود سے متجاوز ہو جاتے تھے۔اور الفاظ بھی عجیب عجیب قسم کے لے آتے تھے (اس لئے مجلس میں ہنسی کی یفیت پیدا ہوگئی ہو گی۔مگر بہر حال بہت مخلص تھے۔اسی غزل کا آخری شعر یہ تھا کہ:۔نوائین نے جب کہ مجھ کو پکارا گیا افرا تفری میں مضموں ہمارا اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب میاں عبدالرحمن صاحب یہ غزل لکھ رہے تھے تو نواب صاحب کے دو صاحبزادوں نے انہیں کسی کام کے لئے پے در پے آواز دی۔اور اس گھبراہٹ میں ان کا مضمون اور شعر دماغ میں منتشر ہو کر رہ گئے۔میاں عبد الرحمن صاحب نواب صاحب کے ہاں نوکر تھے۔732 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ماسٹر اللہ دتا صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱۹۰۱ ء یا ۱۹۰۰ء کا واقعہ ہے۔کہ میں دارالامان میں موجود تھا۔ان دنوں میں ایک نواب صاحب حضرت خلیفة المسیح اول کی خدمت میں علاج کے لئے آئے ہوئے تھے۔جن کے لئے ایک الگ