سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 666 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 666

سیرت المہدی 666 حصہ سوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جسم کی عام کمزوری کے دُور کرنے کا نسخہ پوچھتا۔تو آپ زیادہ تر یخنی اور شیرہ بادام بتایا کرتے تھے۔اور دواؤں میں ایسٹن سیرپ یعنی کچلہ کو نین اور فولاد کا شربت بنایا کرتے تھے۔726 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فیاض علی صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ اوائل میں میں حقہ بہت پیا کرتا تھا۔یہاں تک کہ پاخانہ میں بھی حقہ ساتھ لے جایا کرتا تھا۔تب جا کر پاخانہ ہوتا تھا۔ایک مرتبہ حضرت اقدس جالندھر تشریف لائے۔جماعت کپورتھلہ اور یہ خاکسار بھی حاضر خدمت ہوئے۔وعظ کے دوران میں حقہ کی بُرائی آگئی۔جس کی حضور نے بہت ہی مذمت کی۔وعظ کے ختم ہونے کے بعد خاکسار نے عرض کی۔کہ حضور میں تو زیادہ حقہ پینے کا عادی ہوں۔مجھ سے وہ نہیں چھوٹ سکے گا۔ہاں اگر حضور دعا فرمائیں۔تو امید ہے کہ چھوٹ جائے۔حضور نے فرمایا۔آؤ بھی دعا کریں سو آپ نے دُعا فرمائی اور اثناء دُعا میں حاضرین آمین آمین کہتے رہے۔حضور نے دیر تک خاکسار کیلئے دعا کی۔رات کو میں نے خواب میں دیکھا۔کہ حقہ میرے سامنے لایا گیا ہے۔میں نے چاہا کہ ذرا حقہ پیوں۔جب میں حقہ کو مُنہ سے لگانے لگا۔تو حقہ کی نلی ایک سیاہ پھنیر سانپ بن گئی۔اور یہ سانپ میرے سامنے اپنے پھن کو لہرانے لگا۔میرے دل میں اس کی سخت دہشت طاری ہوگئی۔مگر اسی حالت رؤیا میں میں نے اس کو مار ڈالا۔اس کے بعد میرے دل میں حقہ کی انتہائی نفرت پیدا ہو گئی۔اور میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کی برکت سے حقہ چھوڑ دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ میاں فیاض علی صاحب پرانے صحابہ میں سے تھے۔اب چند سال ہوئے فوت ہو چکے ہیں۔6727 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فیاض علی صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں نے ۱۸۹۰ء میں قادیان مسجد مبارک میں بیعت کی تھی۔مجھ سے پیشتر چند گنتی کے آدمی بیعت میں داخل ہوئے تھے۔اس وقت میں سوائے اپنے اور جماعت کپورتھلہ کے کسی مہمان کو مسیح موعود علیہ السلام کے دستر خوان پر نہ دیکھتا تھا۔حضرت اقدس دستِ مبارک سے زنانہ مکان سے کھانا لے آتے تھے۔اور ہمارے