سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 657
سیرت المہدی 657 ترجمه حصہ سوم اخلاص وعقیدت دستگاه میرزا گل محمد ( شاہی ) دلجوئی یافتہ ہو کر معلوم کریں۔اس وقت برگزیده شرفا و نجبا فضیلت و کمالات پناہ حیات اللہ نے خود آپ کی بیان کردہ حقیقت کی تفصیل سے آگاہ کیا۔لا زم ہے کہ ہر باب میں خاطر جمع ہو کر اپنی جگہ میں آباد اور مطمئن رہیں اور ایں جانب کو اپنے حالات کی جانب متوجہ سمجھ کر اپنے حالات کی کیفیت ارسال کرتے رہیں اور اپنے کار متعلقہ میں پوری دلجمعی کے ساتھ مشغول اور سرگرم رہیں۔جب کوئی کار پرداز اس سر زمین کی طرف متوجہ ہو گا۔تو تعلیقہ ( رپورٹ ) کے مضمون پر اطلاع پا کر اس اخلاص نشان کے بارہ میں واقعی غور عمل میں لایا جائے گا۔محرره ۲۴ ؍رجب ۱۱۶۱ ہجری خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ مرزا گل محمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دادا کے والد تھے۔یہ وہی عالی مرتبہ بزرگ ہیں جن کے تقویٰ اور طہارت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف ” کتاب البریہ میں بڑے تعریفی رنگ میں ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ صاحب خوارق و کرامات تھے۔(۳) منشور عهد شاه عالم ثانی بادشاه هندوستان نجابت و معالی پناه میرزا گل محمد بتوجهات خاطر عالی مستمال بوده بداند که دریں وقت رایات عالی وزیر آباد را رشک فروردین و اردی بهشت فرموده فضیلت و کمالات مآب سیادت و نجابت انتساب بطاله حسن اخلاق او را بعرض رسانید در هر باب خاطر خود را جمعداشت نموده در جائیگاه خودها سکونت داشته باشد که انشاء الله تعالی در حین ورود مسکن فیروزی مامن غور و پرداخت احوال آنها۔بواقعی