سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 652
سیرت المہدی 652 حصہ سوم محراب میں حضور کے پاس جا کر بٹھا دیا۔اور حضور سے کہا۔کہ یہ ڈاکٹر حسن علی صاحب کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔اور حضور سے ملاقات کے لئے آئے ہیں۔حضور میری طرف متوجہ ہوئے اور بات چیت شروع کر دی۔میں نے اپنے بچپن سے لے کر اس وقت تک تمام حالات سُنا دیئے۔اثنائے گفتگو میں حضور نے میری طرف نظر اٹھا کر دیکھا۔اور فرمایا۔کہ آپ کی آنکھیں خراب ہیں۔میں نے عرض کیا۔کہ بچپن سے ہی میری آنکھیں خراب چلی آتی ہیں۔والد صاحب بچپن میں فوت ہو گئے تھے۔بہت تکالیف برداشت کرتا رہا۔استادوں کی بھی خدمت کی۔ایک مرتبہ میں کوہ مری گیا تھا۔تو کچھ آرام آ گیا تھا۔پھر اس کے بعد دوبارہ آنکھیں خراب ہو گئیں۔حضور نے فرمایا۔آپ کا کام کوہ مری اچھا چل سکتا ہے۔آپ وہیں چلے جائیں۔میں نے عرض کی۔کہ اب میں سکھر میں رہتا ہوں۔سکھر اور کوہ مری میں تقریباً پانچ چھ سوکوس کا فاصلہ ہے۔ایک کاروباری آدمی کے لئے جگہ تبدیل کرنا سخت مشکل ہے۔تو حضور نے فرمایا۔کہ خدا تمہیں شفا دے گا۔اور اس کے بعد میں نے محسوس کیا کہ وہیں مسجد میں بیٹھے بیٹھے ہی میری آنکھیں بالکل صاف ہو کر ٹھیک ہوگئیں۔اب میری عمر ۵۶ یا ۷ ۵ سال کی ہے۔اب تک مجھے عینک کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔پھر میں نے عرض کیا۔کہ میرا چھوٹا بھائی بہت متعصب ہے۔اور میں چاہتا ہوں۔کہ وہ بھی احمدی ہو جائے۔حضور دعا فرمائیں۔حضور نے جواب میں فرمایا۔کہ آپ کے ارادے بہت نیک ہیں۔خدا تعالیٰ آپ کو کامیابی عطا کرے گا۔اس وقت میرے بھائی کی یہ حالت تھی کہ ایک مرتبہ ان کے پاس اخبار بدر گیا تو ان کے دوست مولوی محبوب عالم صاحب ان کے پاس موجود تھے۔انہوں نے کہا۔بابو صاحب ذرا اخبار تو دکھا ئیں۔تو انہوں نے جواب میں کہا کہ یہ اخبار نہیں پڑھنا چاہئے۔کیونکہ یہ قادیان کا اخبار ہے اور اس کے دیکھنے سے آدمی پر ایک قسم کا جادو ہو جاتا ہے۔مولوی محبوب عالم صاحب نے کہا۔کہ مرزا صاحب تو قادیان میں بیٹھے ہیں۔کیا ہمیں زبر دستی بازو سے پکڑ کر لے جائیں گے اور انہوں نے زبر دستی اخبار لے لیا۔جب پڑھا تو اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا ذکر تھا۔اور ساتھ ہی قرآن مجید کی آیات سے استدلال کیا ہوا تھا۔تو ان پر فورا ہی جادو کا سا اثر ہو گیا۔غیر احمدی علماء کو بلایا اور ان سے گفتگو کی۔وہ خود بھی عالم تھے۔مگر