سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 651
سیرت المہدی 651 حصہ سوم 718 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرم دین بھیں والے کے مقدمہ میں گورداسپور تشریف لے گئے۔اور میں بھی وزیر آباد سے سیدھا گورداسپور پہنچا۔صبح کی نماز پڑھکر حضرت لیٹے ہوئے تھے۔میں دبانے لگ گیا۔میرے دبانے پر حضرت صاحب نے چہرہ مبارک سے کپڑا اٹھایا اور مصافحہ کے لئے میری طرف ہاتھ بڑھایا۔مصافحہ کر کے فرمایا۔حافظ صاحب آپ اچھے ہیں۔تو میں نے عرض کیا۔کہ حضور مجھے پہچانتے ہیں۔فرمایا۔حافظ صاحب کیا میں آپ کو بھی نہیں پہچانتا؟“۔یہ پاک الفاظ آج تک میرے سینے میں محبت کا ولولہ پیدا کرتے ہیں۔اور جب یاد آتے ہیں تو سینے کو ٹھنڈک پہنچتی ہے۔اتفاقاً اس دن جمعہ تھا۔چوہدری حاکم علی صاحب نے عرض کیا۔کہ حضور نے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا۔کہ حافظ صاحب جو ہیں یہ جمعہ پڑھائیں گے۔یہ فقرہ سُن کر میں اندر ہی اندر گھبرایا کہ میں اس مامور الہی کے آگے کس طرح کھڑا ہوں گا۔میں تو گنہگار ہوں۔الغرض جب جمعہ کا وقت آیا تو میں جماعت کے ایک طرف آنکھ بچا کر بیٹھ گیا۔کہ کوئی اور جمعہ پڑھا دے گا۔مگر جب اذان ہوئی۔تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ حافظ صاحب کہاں ہیں۔میں نے حاضر ہو کر عرض کی۔حضور میری جرات حضور کے آگے کھڑا ہونے کی نہیں۔فرمایا نہیں آپ کھڑے ہو جائیں اور خطبہ پڑھیں۔آپ کے لئے میں دعا کرونگا۔آخر تعمیل حکم کے لئے ڈرتا ڈرتا کھڑا ہو گیا۔خدا واحد لاشریک جانتا ہے کہ جب میں کھڑا ہو گیا تو اللہ نے ایسی جرأت پیدا کر دی اور ایسا شرح صدر ہو گیا کہ میں نے بے دھڑک خطبہ پڑھا۔میں سمجھتا ہوں کے یہ حضور کی دعا کی برکت تھی۔اس کے بعد آج تک میں اپنے اندر اس دُعا کا اثر دیکھتا ہوں۔7193 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں محمد حسین خانصاحب ٹیلر ماسٹر ساکن گوجرانوالہ حال قادیان نے بواسطه مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا۔کہ تقریباً ۱۹۰۱ء کا واقعہ ہے۔کہ میں قادیان آیا اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کو ملا اور عرض کی کہ میں حضرت صاحب سے ملاقات کے لئے آیا ہوں۔ابھی تھوڑی دیر ہی حضرت مولوی صاحب کے مطب میں بیٹھے گذری تھی کہ کسی نے اطلاع دی کہ حضور علیہ السلام مسجد میں تشریف فرما ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے مجھے بازو سے پکڑ لیا اور لا کر مسجد مبارک کے