سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 648 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 648

سیرت المہدی 648 حصہ سوم بخیر و خوبی پورا ہو گیا۔715 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ شہزادہ عبداللطیف صاحب شہید جب قادیان سے رخصت ہو کر واپس وطن جانے لگے۔تو حضرت صاحب بمعہ ایک گروہ کثیر مہمانان کے ان کو الوداع کہنے کے لئے دُور تک بٹالہ کی سڑک پر تشریف لے گئے۔آخر جب مولوی صاحب شہید رخصت ہونے لگے۔تو سڑک پر ہی حضرت صاحب کے قدموں پر گر پڑے۔اور جدائی کے غم کے مارے ان کی چیخیں نکل گئیں اور زار زار رونے لگے۔حضرت صاحب نے ان کو بڑی مشکل سے اپنے ہاتھ سے اٹھایا اور تسلی دی اور رخصت کیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ روایت نمبر ۲۶۰ میں حضرت مولوی شیر علی صاحب کی روایت میں بھی اس واقعہ کا ذکر ہو چکا ہے۔716 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر دین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میرا ایک لڑکا شیر خوارگی میں فوت ہو گیا۔اس کے بعد جب میں قادیان آیا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد اقصیٰ میں شام کے قریب ٹہل رہے تھے۔میرے السلام علیکم عرض کرنے پر فرمایا کہ تمہارا لڑکا فوت ہو گیا ہے۔غم نہیں کرنا چاہئے۔کیونکہ درخت کا پھل سب کا سب قائم نہیں رہا کرتا۔بلکہ کچھ گر بھی جایا کرتا ہے مگر اس سے بھی اتنا ثابت ہو جاتا ہے کہ درخت بے ثمر نہیں ہے۔اور آئندہ کے لئے امید پیدا ہوتی ہے۔717 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ ہمارے خاندان کے متعلق مجھے اخویم مکرم خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے پاس سے مندرجہ ذیل خطوط اور سندات ملی تھیں۔یہ خطوط افسران سرکار انگلشیہ کی طرف سے ہمارے آباو اجداد کے نام ہیں۔اور اصل کا غذات میرے پاس محفوظ ہیں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ خطوط اور سندات ان کے علاوہ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتب میں شائع فرما چکے ہیں۔اور جو خود خاکسار بھی سیرۃ المہدی حصہ اوّل روایت نمبر ۱۳۳ میں درج کر چکا ہے۔