سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 624 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 624

سیرت المہدی 624 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ حج نہ کرنے کی تو خاص وجوہات تھیں کہ شروع میں آپ کے لئے مالی لحاظ سے انتظام نہیں تھا۔کیونکہ ساری جائداد وغیرہ اوائل میں ہمارے دادا صاحب کے ہاتھ میں تھی اور بعد میں تایا صاحب کا انتظام رہا۔اور اس کے بعد حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ ایک تو آپ جہاد کے کام میں منہمک رہے۔دوسرے آپ کے لئے حج کا راستہ بھی مخدوش تھا۔تا ہم آپ کی خواہش رہتی تھی کہ حج کریں۔چنانچہ حضرت والدہ صاحبہ نے آپ کے بعد آپ کی طرف سے حج بدل کروا دیا۔اعتکاف ماموریت کے زمانہ سے قبل غالباً بیٹھے ہوں گے مگر ماموریت کے بعد بوجہ قلمی جہاد اور دیگر مصروفیت کے نہیں بیٹھ سکے۔کیونکہ یہ نیکیاں اعتکاف سے مقدم ہیں۔اور زکوۃ اس لئے نہیں دی کہ آپ کبھی صاحب نصاب نہیں ہوئے۔البتہ حضرت والدہ صاحبہ زیور پر زکوۃ دیتی رہی ہیں اور تسبیح اور رسمی وظائف وغیرہ کے آپ قائل ہی نہیں تھے۔673 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمداسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کی آنکھوں میں مائی اور پیا تھا۔اسی وجہ سے پہلی رات کا چاند نہ دیکھ سکتے تھے۔مگر نزدیک سے آخر عمر تک باریک حروف بھی پڑھ لیتے تھے۔اور عینک کی حاجت محسوس نہیں کی۔اور وراثہ آنکھوں کی یہ حالت حضرت صاحب کی تمام اولا دمیں آئی ہے کہ دُور کی نظر کمزور ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یاد ہے کہ کبھی رمضان یا عید میں پہلی رات کا چاند دیکھنا ہوتا تھا تو آپ کسی دوست کی عینک منگا کر دیکھنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔674 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک روز حضرت صاحب مسجد مبارک کی چھت پر بیٹھے ہوئے کچھ گفتگو فرمارہے تھے۔ان دنوں قادیان میں طاعون شروع تھا۔بعض لوگوں نے جو قادیان کے گھمار وغیرہ تھے، آکر بیعت کر لی۔تو میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے کہا۔" الْأَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا “ (التوبه: ۹۷) کہ اعرابی ایسے ویسے ہی ہوتے ہیں یعنی ان لوگوں کو کوئی سمجھ نہیں ہوتی۔ڈر کے مارے یا دیکھا دیکھی بیعت کر لیتے ہیں اور دل میں ایمان نہیں ہوتا۔حضرت صاحب نے میر صاحب کے جب یہ الفاظ سنے۔تو فرمایا۔میر صاحب! سب لوگ