سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 613 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 613

سیرت المہدی 613 حصہ سوم ہوئی تھی۔یہ درست ہے کہ مفتی صاحب نے جوانی کے عالم میں گھوڑے کو خوب بھگایا ہوگا۔اور وہ ماشاء اللہ خوب شاہسوار ہیں۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اذان اور نماز میں اس دن غیر معمولی توقف ہو گیا ہو۔یا اذان غلطی سے کسی قدر قبل از وقت دیدی گئی ہو۔یا مفتی صاحب ختم نماز سے تھوڑی دیر بعد پہنچے ہوں۔مگر انہوں نے سمجھ لیا ہو کہ بس ابھی نماز ختم ہوئی ہے وغیر ذالک۔مگر پھر بھی تینتیں چونتیس میل کے سفر کا اذان اور ختم نماز کے درمیان یا اس کے جلد بعد طے ہو جانا بظاہر نہایت تعجب انگیز ہے۔واللہ اعلم۔تاہم کوئی بات تعجب انگیز ہوئی ضرور ہے۔کیونکہ مفتی صاحب یہ واقعہ متعدد دفعہ سُنا چکے ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ میرے سامنے حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ کو بھی سُنایا تھا۔اور حضرت امیر المؤمنین حیرت کا اظہار کر کے خاموش ہو گئے تھے اور خود مفتی صاحب بھی بہت تعجب کیا کرتے ہیں کہ ایسا کیونکر ہو گیا مگر کہا کرتے ہیں کہ واقعہ یہی ہے۔اگر کسی قدر اندازے کی غلطی اور کسی قدر یاد کی غلطی اور کسی قدر بیان کی بے احتیاطی کی بھی گنجائش رکھی جائے۔تو پھر بھی یہ واقعہ بہت تجب کے قابل ہے۔650 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمدابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بیان کیا۔ایک دفعہ ایام جلسہ میں سیر سے واپسی پر جہاں اب مدرسہ تعلیم الاسلام ہے۔حضور علیہ السلام تھوڑی دیر کے لئے ٹھہر گئے۔ایک دوست نے چادر بچھا دی جس کو پنجابی میں لوئی کہتے ہیں۔اس پر حضور علیہ السلام بیٹھ گئے۔مگر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جو ابھی بچہ تھے کھڑے رہے اس پر حضور علیہ السلام نے دیکھ کر فرمایا: میاں محمود! تم بھی بیٹھ جاؤ۔اس پر آپ چادر پر بیٹھ گئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا عام طریق یہ تھا کہ یا تو اپنے بچوں کو صرف نام لے کر بلاتے تھے اور یا خالی میاں کا لفظ کہتے تھے۔میاں کے لفظ اور نام کو ملا کر بولنا مجھے یاد نہیں مگر ممکن ہے کسی موقعہ پر ایسا بھی کہا ہو۔651 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ فلاں غیر احمدی مولوی حضرت رض