سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 598
سیرت المہدی 598 حصہ سوم گیا۔تو مجسٹریٹ نے حضرت اقدس کو پانچ سو روپیہ اور حکیم فضل دین صاحب کو دوصد رو پیہ جرمانہ کیا۔اسی وقت مبلغ ایک ہزار روپیہ کا نوٹ پیش کیا گیا۔اور باقی تین صد روپیہ واپس لیا گیا۔اتنے میں چار بج گئے۔اور خواجہ کمال الدین صاحب نے مجسٹریٹ سے پوچھا۔کہ اب عدالت برخاست ہو چکی ہے۔کیا میں فیصلہ کے متعلق کچھ بات کر سکتا ہوں ( یعنی آزادی کے ساتھ غیر عدالتی رنگ میں اظہارِ خیال کر سکتا ہوں۔خاکسارمؤلف) مجسٹریٹ نے کہا۔ہاں۔تب خواجہ صاحب نے کہا۔کہ یہ خاک فیصلہ ہے۔کہ میں نے کرم دین کو کذاب ثابت کر دیا۔اور باوجود اس کے حضرت اقدس کو اس بات پر جرمانہ بھی کر دیا گیا کہ اس کو کذاب کیوں کہا ہے۔حالانکہ کذاب کو کذاب کہنا کوئی جرم نہیں۔مجسٹریٹ خاموش رہا۔تب خواجہ صاحب نے کہا۔کہ سات صد روپیہ ہمارا امانت ہے۔ابھی تھوڑے عرصہ میں واپس لے لیں گے۔چنانچہ اپیل میں حضرت صاحب بری قرار دیئے گئے۔اور وہ روپیہ واپس مل گیا۔مگر کرم دین کا نام ہمیشہ کے لئے کذاب درج رجسٹر رہا۔اور اس کا جرمانہ بھی قائم رہا۔627 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی شخص نے جہاد کے بارہ میں عرض کیا کہ مسلمان بادشاہوں نے ہمیشہ دفاعی جنگ تو نہیں کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمانے لگے کہ ہم تو صرف آنحضرت اور خلفائے راشدین کی طرف سے جواب دینے کے ذمہ دار ہیں اور کسی کے نہیں۔ان کے جہاد ہمیشہ دفاعی تھے۔باقی بعد کے مسلمان بادشاہوں کی طرف سے جواب دہی کی ذمہ واری ہم نہیں لے سکتے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بالکل درست ہے۔اور آنحضرت ﷺ کی جملہ لڑائیاں دفاعی تھیں۔مگر یہ یا درکھنا چاہئے۔کہ دفاعی کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہر انفرادی لڑائی آپ نے اس وقت کی جبکہ غنیم فوج لے کر چڑھ آیا۔اس قسم کا دفاع احمقانہ دفاع ہوتا ہے بلکہ اس کا نام دفاع رکھنا ہی غلط ہے۔پس دفاع سے صلى الله مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی غرض و غایت دشمن کے خلاف اپنے آپ کو محفوظ کرناتھی۔یعنی دشمن اسلام کو مٹانا چاہتا تھا اور آپ اسلام کو محفوظ کرنے کے لئے میدان میں نکلے تھے اور ہر عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ بسا اوقات جنگی تدبیر کے طور پر خود پیش دستی کر کے دشمن کو حملہ سے روکنا بھی دفاع کا حصہ ہوتا ہے۔