سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 594 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 594

سیرت المہدی 594 حصہ سوم ہوا۔مگر جو الفاظ اخبارات میں شائع ہوئے ہیں وہ اس طرح پر ہیں جس طرح شروع روایت میں درج کئے گئے ہیں۔اور غالب وہی صحیح ہونگے۔کیونکہ زبانی یاد میں غلطی ہو جاتی ہے۔واللہ اعلم 625 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں ۱۱ ستمبر ۱۹۳۵ء کو سیالکوٹ میں تھا۔وہاں مجھے مائی حیات بی بی صاحبہ بنت فضل دین صاحب جو کہ حافظ محمد شفیع صاحب قاری کی والدہ ماجدہ ہیں سے ملنے کو موقعہ ملا۔اس وقت میرے ہمراہ مولوی نذیر احمد صاحب فاضل سیکرٹری تبلیغ جماعت احمد یہ سیالکوٹ اور چوہدری عصمت اللہ خان بی۔اے۔پلیڈ رلا کپور، سیکرٹری جماعت احمدیہ لائکپور بھی تھے۔مائی صاحبہ اپنے مکان کی دہلیز پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ہم نے ان کو نہ پہنچانا۔مگر انہوں نے ہم کو پہچان کر السلام علیکم کہا۔اور فرمایا کہ ادھر تشریف لے آئیں۔مائی صاحبہ کی عمر اس وقت ۱۰۵ سال ہے۔مائی صاحبہ نے بتایا۔کہ غدر کے زمانہ میں جب یہاں بھا گڑ پڑی اور دفاتر اور کچہریوں کو آگ لگی تو اس وقت میں جوان تھی۔دورانِ گفتگو میں مائی صاحبہ نے بتایا کہ مجھے مرزا صاحب ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام) سے اس وقت سے واقفیت ہے کہ جب آپ پہلے پہل سیالکوٹ تشریف لائے تھے اور یہاں ملازمت کے زمانہ میں رہے تھے۔مرزا صاحب کی عمر اس وقت ایسی تھی کہ چہرے پر مس پھوٹ رہی تھی۔اور آپ کی ابھی پوری داڑھی نہ تھی۔سیالکوٹ تشریف لانے کے بعد حضرت مرزا صاحب میرے والد صاحب کے مکان پر آئے۔اور انہیں آواز دی اور فرمایا۔میاں فضل دین صاحب آپ کا جو دوسرا مکان ہے۔وہ میری رہائش کے لئے دے دیں۔میرے والد صاحب نے دروازہ کھولا اور آپ اندر آگئے۔پانی ، چار پائی ہمصلی وغیرہ رکھا۔مرزا صاحب کا سامان بھی رکھا۔آپ کی عادت تھی کہ جب کچہری سے واپس آتے تو پہلے میرے باپ کو بُلاتے اور ان کو ساتھ لے کر مکان میں جاتے۔مرزا صاحب کا زیادہ تر ہمارے والد صاحب کے ساتھ ہی اُٹھنا بیٹھنا تھا۔ان کا کھانا بھی ہمارے ہاں ہی پکتا تھا۔میرے والد ہی مرزا صاحب کو کھانا پہنچایا کرتے تھے۔مرزا صاحب اندر جاتے اور دروازہ بند کر لیتے اور اندر صحن میں جا کر قرآن پڑھتے رہتے تھے۔میرے والد صاحب بتلایا کرتے تھے کہ مرزا صاحب