سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 593
سیرت المہدی 593 حصہ سوم چھپا ہوا ہے۔آپ نے نہایت اہتمام سے اس کو کا تب سے لکھوایا۔اور فارسی اور اُردو میں ترجمہ بھی خود کیا۔اس خطبہ پر اعراب بھی لگوائے۔اور آپ نے فرمایا۔کہ جیسا جیسا کلام اُتر تا گیا۔میں بولتا گیا۔جب یہ سلسلہ بند ہو گیا۔تو میں نے بھی تقریر کو ختم کر دیا۔آپ فرماتے تھے۔کہ تقریر کے دوران میں بعض اوقات الفاظ لکھے ہوئے نظر آجاتے تھے۔آپ نے تحریک فرمائی کہ بعض لوگ اس خطبہ کو حفظ کر کے سُنا ئیں۔چنانچہ مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی محمد علی صاحب نے اس خطبہ کو یاد کیا۔اور مسجد مبارک کی چھت پر مغرب وعشاء کے درمیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں اس کو پڑھ کر سنایا۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ مولوی شیر علی صاحب کی یہ روایت مختصر طور پر حصہ اول طبع دوم کی روایت نمبر ۱۵۶ میں بھی درج ہو چکی ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر نے بعض اصحاب سے چند عد دروایات لکھ کر ایک کاپی میں محفوظ کی ہوئی ہیں۔یہ روایت اسی کا پی میں سے لی گئی ہے۔آگے چل کر بھی اس کاپی کی روایات آئیں گی۔اس لئے میں نے ایسی روایات میں مولوی عبد الرحمن صاحب کے واسطے کو ظاہر کر دیا ہے۔مولوی عبدالرحمن صاحب خود صحابی نہیں ہیں۔مگر انہوں نے یہ شوق ظاہر کیا ہے کہ ان کا نام بھی اس مجموعہ میں آجائے۔اس کاپی میں جملہ روایات اصحاب جو بوجہ نابینائی یا ناخواندگی معذور تھے ان کی روایات مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر نے اپنے ہاتھ سے خود لکھی ہیں۔624 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا کہ دہلی میں واصل جہنم واصل خان فوت ہو گیا تو مجھے یاد ہے کہ آپ نے اس کے متعلق سب سے پہلے حضرت خلیفہ اول کو بلا کر اُن سے علیحدگی میں بات کی تھی۔اور یہ الہام سُنا کر واصل خاں کی بابت دریافت فرمایا تھا۔اس وقت حضرت صاحب اور حضرت مولوی صاحب کے سوا اور کوئی نہ تھا۔البتہ خاکسار پاس کھڑا تھا اور شاید مجھے ہی بھیج کر حضرت صاحب نے مولوی صاحب کو بلایا تھا۔اور آپ مولوی صاحب کو مسجد مبارک کے پاس والے حصہ میں اپنے مکان کے اندر ملے تھے۔اور زمین پر ایک چٹائی پڑی تھی اس پر بیٹھ گئے تھے۔نیز اس الہام کے الفاظ جو مجھے زبانی یاد تھے۔یہ تھے کہ دہلی میں واصل خاں واصل جہنم