سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 592 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 592

592 حصہ سوم سیرت المہدی ہے کہ وہ اپنی عادات میں بہت معتدل ہوتے ہیں اور کوئی ایسی چیز استعمال نہیں کرتے جو بد بو پیدا کرے یا پیٹ میں ریاح پیدا کرے یا کسی اور طرح کی گندگی کا باعث ہو۔اس احتیاط کی وجہ علاوہ ذاتی طہارت اور نظافت کی خواہش کے ایک یہ بھی ہے کہ انبیاء کو ذات باری تعالے اور ملائکۃ اللہ کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے اور اللہ اور اس کے فرشتے بوجہ اپنی ذاتی پاکیزگی کے انسان میں بھی پاکیزگی کو بہت پسند کرتے ہیں۔623 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر مدرس مدرسہ احمدیہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱۹۰۰ء میں یا اس کے قریب عید الاضحیٰ سے ایک دن پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو لکھا کہ جتنے دوست یہاں موجود ہیں ان کے نام لکھ کر بھیج دو۔تامیں ان کے لئے دُعا کروں۔حضرت مولوی صاحب نے سب کو ایک جگہ جہاں آجکل مدرسہ احمدیہ ہے اور اُس وقت ہائی سکول تھا جمع کیا اور ایک کاغذ پر سب کے نام لکھوائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھیج دیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سارا دن اپنے کمرہ میں دروازے بند کر کے دُعا فرماتے رہے۔صبح عید کا دن تھا۔آپ نے فرمایا مجھے الہام ہوا ہے۔کہ اس موقعہ پر عربی میں کچھ کلمات کہو۔اس لئے حضرت مولوی نور الدین صاحب اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اس وقت قلم دوات لے کر موجود ہوں اور جو کچھ میں عربی میں کہوں لکھتے جائیں۔آپ نے نماز عید کے بعد خطبہ خود پہلے اردو میں پڑھا۔مسجد اقصیٰ کے پرانے صحن میں دروازے سے کچھ فاصلہ پر ایک کرسی پر تشریف رکھتے تھے۔حضور کے اُردو خطبہ کے بعد حضرت مولوی صاحبان حسب ارشاد حضرت مسیح موعود علیہ ال آپ کے بائیں طرف کچھ فاصلہ پر کاغذ اور قلم دوات لے کر بیٹھ گئے۔اور حضور نے عربی میں خطبہ پڑھنا شروع فرمایا۔اس عربی خطبہ کے وقت آپ کی حالت اور آواز بہت دھیمی اور باریک ہو جاتی تھی۔تقریر کے وقت آپ کی آنکھیں بند ہوتی تھیں۔تقریر کے دوران میں ایک دفعہ حضور نے حضرت مولوی صاحبان کو فرمایا۔کہ اگر کوئی لفظ سمجھ نہ آئے تو اس وقت پوچھ لیں ممکن ہے کہ بعد میں میں خود بھی نہ بتا سکوں اس وقت ایک عجیب عالم تھا۔جس کو میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔یہ خطبہ حضور کی کتاب خطبہ الہامیہ کے ابتداء میں السلام