سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 588
سیرت المہدی 588 حصہ سوم لیا۔اور اصل آگے جانے دیا۔نقل غالبا گورنمنٹ کے بالا دفاتر میں چلی گئی ہوگی۔اور ترجمہ پولیس کے ماتحت دفتر میں پڑا رہا۔واللہ اعلم۔الصلوة 618 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ دسمبر ۱۹۰۷ ء میں آریہ سماج لاہور کا ایک جلسہ تھا۔جس میں جمیع مذاہب سے خواہش کی گئی تھی کہ وہ اس مضمون پر تقریر کریں۔کہ کیا دنیا میں کوئی الہامی کتاب ہے؟ اگر ہے تو کونسی ہے؟ حضرت مسیح موعود بھی اس جلسہ کے واسطے مضمون لکھوا ر ہے تھے اور غلام محمد صاحب احمدی کا تب کو امرتسر سے بلوایا تھا۔وہ گھر پر مضمون لکھ رہا تھا۔آپ نماز جمعہ کے واسطے اس مکان میں تشریف لائے۔جس میں آج کل حضرت میاں بشیر احمد صاحب ایم۔اے ( یعنی خاکسار مؤلف ) سکونت رکھتے ہیں۔سید محمد احسن صاحب امام ا تھے۔حضرت صاحب نے خصوصیت سے کہلا بھیجا تھا۔کہ خطبہ مختصر ہو۔کیونکہ ہم مضمون لکھوا ر ہے ہیں اور کا تب لکھ رہا ہے۔وقت تھوڑا باقی ہے۔وہ مضمون غالباً یکم یا ۲ دسمبر ۱۹۰۷ء کوسنایا جانا تھا۔اور اغلبا اس دن ۲۸ یا ۲۹ نومبر ۱۹۰۷ء کی تاریخ تھی۔مگر سید صاحب نے باوجود حضرت اقدس کے صریح ارشاد کے خطبہ اس قدر لمبا پڑھا۔کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول کافی عرصہ بعد مسجد اقطے تشریف لے گئے۔اور وہاں نماز جمعہ پڑھانے کے بعد واپس بھی تشریف لے آئے۔مگر سید صاحب کا خطبہ ابھی جاری تھا۔خطبہ میں دو امور کا ذکر تھا۔ایک حضرت مسیح ناصری کے حواریوں کے مائندہ مانگنے کا ذکر تھا اور یہ کہ ہمارے امام کے ساتھ بھی مائدہ یعنی لنگر خانہ ہے۔اور نیز اس سے رُوحانی غذا بھی مراد ہے۔دوم قدرت ثانیہ کے بارہ میں تذکرہ تھا۔الغرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہایت تحمل سے وہ خطبہ سنتے رہے۔باوجود اس کے کہ آپ کو نہایت ضروری کام در پیش تھا۔مگر حضرت کی پیشانی پر کوئی بل نظر نہ آیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری ایام میں نماز جمعہ دو جگہ ہوتی تھی ایک مسجد مبارک میں جس میں حضرت صاحب خود شریک ہوتے تھے اور امام الصلوۃ مولوی سید محمد احسن