سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 587 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 587

سیرت المہدی 587 حصہ سوم نے اپنے نفس کو میرے نفس سے ملایا۔اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ کے نیچے رکھا۔اس کو خدا دنیا میں اور آخرت میں بلند کرے گا۔اور اس کو دونوں جہان میں نجات پانے والا بنائے گا۔پس قریب ہے کہ میری اس بات کا ذکر پھیلے اور میں اپنے کام کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔اور میرا شکوہ اپنے فکر وغم کا کسی سے نہیں سوائے اللہ کے۔وہ میرا رب ہے میں نے تو اس پر تو کل کیا ہے۔وہ مجھے بلند کرے گا اور مجھے ضائع نہیں ہونے دے گا۔اور مجھے عزت دیگا اور ذلت نہیں دے گا۔اور جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ان کو جلد معلوم ہو جائے گا کہ وہ خطا پر تھے۔اور ہماری آخری دُعا یہ ہے کہ ہر قسم کی تعریف خدا کے واسطے ہے اور وہ تمام عالموں کا پالنے والا ہے۔الملتمس عبدالله الحمد غلام احمد ماہ شوال ۱۳۱۳ھ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے اس ترجمہ میں کہیں کہیں خفیف لفظی تبدیلی کی ہے نیز خاکسار عرض کرتا ہے۔۔۔۔کہ میں نے جب یہ خط بغرض اطلاع حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے سامنے پیش کیا۔تو آپ نے فرمایا۔کہ کچھ عرصہ ہوا خواجہ حسن نظامی صاحب نے شائع کیا تھا کہ نے ایک دفعہ مرزا صاحب نے امیر کابل کو ایک دعوتی خط لکھا تھا۔جس پر اس نے جواب دیا کہ لکھدو۔کہ اینجا بیا یعنی اس جگہ افغانستان میں آجاؤ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ جواب حضرت مسیح موعود کو تو نہیں پہنچا۔لیکن اگر یہ بات درست ہے تو اس سے امیر کا بل کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم انگریزی حکومت میں آرام کے ساتھ بیٹھے ہوئے یہ دعوے کر رہے اور انگریزی حکومت کو سراہ رہے ہوا گر میرے ملک میں آؤ تو پتہ لگ جائے۔بیچارے کو کیا معلوم تھا کہ خود اس کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے خدائی دربار میں گھنٹی بج رہی ہے۔چنانچہ اس پر زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ بچہ سقہ کے ہاتھ سے امیر عبدالرحمن کا خاندان معزول ہو کر ملک سے بھاگ گیا اور اس کی جگہ اللہ تعالیٰ دوسرے خاندان کو لے آیا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس خط کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خط عربی میں لکھا گیا تھا۔یا شاید فارسی میں ہو اور کچھ فقرات عربی کے ہوں۔نیز معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت صاحب نے یہ خط امیر کابل کو بھجوایا۔تو راستہ میں پولیس نے لیکر اس کی نقل رکھ لی اور ترجمہ بھی کر