سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 568
سیرت المہدی 568 حصہ سوم ابتداء ہی میں دائیں ہاتھ کی انگلیوں کا حلقہ بنا لیتے تھے اور صرف شہادت والی انگلی کھلی رکھتے تھے۔جو شہادت کے موقعہ پر اُٹھاتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ خواجہ عبدالرحمن صاحب کے والد چونکہ اہل حدیث میں سے آئے تھے۔اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان باتوں کو غور کی نظر سے دیکھتے تھے۔مگر مجھ سے مکرم ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے بیان کیا ہے کہ ابتداء سے ہی ہاتھ کی انگلیوں کے بند کر لینے کا طریق انہیں یاد نہیں ہے۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ کبھی ایسا ہوا ہو۔واللہ اعلم۔602 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب ساکن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میرے والد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں پہلے اہلِ حدیث تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہارات و رسائل کشمیر میں پہنچے۔تو سب سے پہلے میرے کان میں حضور کا یہ شعر پڑا۔کہ مولوی صاحب! کیا یہی تو حید ہے سچ کہو کس دیو کی تقلید ہے“ سومیں وہاں پر ہی بیعت کے لئے بے قرار ہو گیا اور نفس میں کہا کہ افسوس اب تک ہم دیو کی ہی تقلید کرتے رہے۔سو میں نے تم دونوں بھائیوں کو ( خاکسار عبدالرحمن اور برادر مکرم عبدالقادر صاحب) سرینگر میں اپنے ماموں کے پاس چھوڑ کر فوراً قادیان کی راہ لی اور جب یہاں پہنچا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا۔کہ حضور میری بیعت لے لیں۔حضور نے فرمایا۔بیعت کیا ہے۔بیعت عبرت ہے اس کے بعد میری اور چند اور اصحاب کی بیعت لے لی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ فرمانا کہ بیعت عبرت ہے اس سے یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ بیعت کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی گزشتہ زندگی کو ایمان اور اعمال کے لحاظ سے عبرت کا ذریعہ بنا کر آئندہ کے لئے زندگی کا نیا ورق الٹ لے۔603 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام شیعوں کے عقائد کے ضمن میں ایک غالی شیعہ کی کہانی کبھی کبھی سنایا کرتے تھے۔فرماتے تھے کہ