سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 551 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 551

سیرت المہدی 551 حصہ سوم اجر انسان کو آخرت میں ملے گا۔سوائے خارش کے۔کیونکہ خارش کا بیمار دنیا میں ہی اس سے لذت حاصل کر لیتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خارش کی تکلیف مرزا عزیز احمد صاحب کی پیدائش پر ہوئی تھی۔جو غالبا ۱۸۹۱ء کا واقعہ ہے۔اس کا ذکر روایت نمبر ۲۶۲ میں بھی ہو چکا ہے۔575 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرم منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ رزق کی تنگی بسا اوقات ایمان کی کمزوری کا موجب ہو جاتی ہے۔یہ بھی فرمایا کہ دنیا میں مصائب اور مشکلات سے کوئی خالی نہیں یہاں تک کہ انبیاء علیہم السلام اور خدا کے اولیاء کرام بھی اس سے خالی نہیں رہتے۔مگر انبیاء اور اولیاء کی تکالیف کا سلسلہ رُوحانی ترقیات کا باعث ہوتا ہے۔اور دنیا داروں پر جو مصائب اور مشکلات کا سلسلہ آتا ہے وہ ان کی شامت اعمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔نیز فرمایا کہ جب تک مصائب و آلام بصورت انعام نظر نہ آنے لگیں اور ان سے ایک لذت اور سرور حاصل نہ ہو۔اس وقت تک کوئی شخص حقیقی مومن نہیں کہلا سکتا۔576 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بذریعہ تحریر ذکر کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قصر نماز کے متعلق سوال کیا۔حضور نے فرمایا۔جس کو تم پنجابی میں وانڈھا کہتے ہو۔بس اس میں قصر ہونا چاہئے۔میں نے عرض کیا کہ کیا کوئی میلوں کی بھی شرط ہے۔آپ نے فرمایا۔نہیں۔بس جس کو تم وانڈھا کہتے ہو وہی سفر ہے جس میں قصر جائز ہے۔میں نے عرض کیا کہ میں سیکھواں سے قادیان آتا ہوں۔کیا اس وقت نماز قصر کر سکتا ہوں۔آپ نے فرمایا۔ہاں۔بلکہ میرے نزدیک اگر ایک عورت قادیان سے نگل جائے تو وہ بھی قصر کرسکتی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ سکھواں قادیان سے غالباً چار میل کے فاصلہ پر ہے اور منگل تو شاید ایک میل سے بھی کم ہے۔منگل کے متعلق جو حضور نے قصر کی اجازت فرمائی ہے۔اس سے یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان سفر کے ارادہ سے قادیان سے نکلے تو خواہ ابھی منگل تک ہی گیا ہو اس کے لئے قصر جائز