سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 549 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 549

سیرت المہدی 549 حصہ سوم کی مقدار اجزاء کی مقدار سے ڈھائی گنا زیادہ ہوتی ہے۔یعنی اگر یہ اجزاء ایک ایک تولہ کی صورت میں جمع کئے جائیں تو روغن سم الفار ڈھائی تولہ ہو گا۔اور اسی طرح مولوی صاحب نے بیان کیا۔کہ ان اجزاء میں بعض اوقات مردار پر بھی اسی نسبت سے یعنی فی تولہ جزو پر ڈھائی تولہ مروار یہ زیادہ کر لیا جاتا ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ ایسی اول ایسا ہی کیا کرتے تھے۔اور حضرت خلیفہ مسیح اول روغن سم الفار اس طرح تیار کروایا کرتے تھے کہ مثلاً ایک تولہ سم الفار کو باریک پیس کر اسے دوسیر دودھ میں حل کر کے دہی کے طور پر جاگ لگا کر جما دیتے تھے اور پھر اس دہی کو بلو کر جو مکھن نکلتا تھا اسے بصورت گھی صاف کر کے استعمال کرتے تھے۔اور نسخہ میں جو روغن سم الفار کی مقدار بتائی گئی ہے۔وہ اسی روغن سم الفار کی مقدار ہے نہ کہ خود سم الفار کی۔اور تیار شدہ دوائی کی خوراک نصف رتی سے ایک رتی تک ہے جو دن رات میں ایک دفعہ کھائی جاتی ہے اور کبھی کبھی ناغہ بھی کرنا چاہئے۔570 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ ہمارے ساتھ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔اور الہام ہے کہ نـزلـت الرحمة على الثلاثة۔الْعَيْنِ وَعَلَى الْأُخْرَيَين - یعنی تمہارے تین اعضاء پر خدائی رحمت کا نزول ہے۔ایک ان میں سے آنکھ ہے اور دو اور اعضاء ہیں۔فرماتے تھے۔دوسرے دو اعضاء کا نام الہام میں اس لئے نہیں لیا گیا۔کہ ان کا نام بھی عین ہی معلوم ہوتا ہے ایک تو گھٹنے جسے عربی میں عین کہتے ہیں۔چنانچہ ہمارے ملک میں دعا مشہور ہے کہ دیدے گھٹنے سلامت رہیں اور دوسرے عین انسان کے عقل وحواس کو بھی کہتے ہیں۔پس آنکھ گھٹنے اور عقل وحواس آپ کے مرتے دم تک خدا کے فضل و کرم سے ہر نقص اور مرض سے محفوظ رہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ دوسرے دو اعضاء کے متعلق صرف استدلال ہے ، تصریح نہیں۔تصریح صرف آنکھ کے متعلق ہے۔571 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق تھا کہ اپنے مخلصین کی بیماری میں ان کی عیادت کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے