سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 543
سیرت المہدی 543 حصہ سوم 66 ہیں۔جو فرمائش آتی یا حکم ہوتا وہ حضرت صاحب کی طرف سے مہتمم کتب خانہ کے پاس بھیج دیا جاتا۔وہ کتاب کا پارسل بنا کر رجسٹری یا وی۔پی کر کے بھیج دیتا۔وی۔پی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام کا ہوتا تھا۔ایک مہر ربڑ کی ” اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ " کی بنوائی گئی تھی۔اور اعلان کر دیا تھا کہ جس کتاب پر یہ مہر اور ہمارے قلمی دستخط دونوں موجود نہ ہوں وہ مال مسروقہ سمجھا جائے گا۔یہ مہر مہتم کتب خانہ کے پاس رہتی تھی۔جو کتا ہیں باہر جاتیں ان پر وہ مُہر لگا کر پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس وہ کتابیں دستخط کے لئے بھیج دی جاتی تھیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایسا انتظام غالباً خاص خاص اوقات میں خاص مصلحت کے ماتحت ہوا ہوگا۔ورنہ میں نے حضرت صاحب کے زمانہ کی متعدد کتب دیکھی ہیں جن پر حضرت صاحب کے دستخط نہیں ہیں گو بعض پر میں نے دستخط بھی دیکھے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاص زمانہ میں یہ احتیاط برتی گئی تھی۔559 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گھر کا کوئی کام کرنے سے کبھی عار نہ تھی۔چار پائیاں خود بچھا لیتے تھے۔فرش کر لیتے تھے۔بسترہ کر لیا کرتے تھے۔کبھی یکدم بارش آجاتی تو چھوٹے بچے تو چار پائیوں پر سوتے رہتے۔حضور ایک طرف سے خود ان کی چار پائیاں پکڑتے دوسری طرف سے کوئی اور شخص پکڑتا اور اندر برآمدہ میں کروا لیتے۔اگر کوئی شخص ایسے موقعہ پر یا صبح کے وقت بچوں کو جھنجوڑ کر جگانا چاہتا تو حضور منع کرتے اور فرماتے کہ اس طرح یکدم ہلانے اور چیخنے سے بچہ ڈر جاتا ہے۔آہستہ سے آواز دے کر اُٹھاؤ۔560 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی امام الدین صاحب سابق پٹواری نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی والے مقدمہ زیر دفعہ ۱۰۷ کی پیشی دھار یوال میں مقرر ہوئی تھی۔اس موقعہ پر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السّلام سے عرض کیا کہ حضور محمد بخش تھانیدار کہتا ہے۔کہ آگے تو مرزا مقدمات سے بچ کر نکل جاتا رہا ہے۔اب میرا ہاتھ دیکھے گا۔حضرت صاحب نے فرمایا۔”میاں امام الدین ! اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔اس کے بعد میں نے دیکھا۔کہ اس کے ہاتھ کی ہتھیلی میں سخت در دشروع ہو گئی۔اور وہ اس