سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 542
سیرت المہدی 542 حصہ سوم 556 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگر وال نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب فوت ہو گئے۔تو آپ سابقہ چوبارہ چھوڑ کر اس چوبارہ میں جو مرزا غلام قادر صاحب نے جدید بنایا تھا آگئے۔یہ مسجد مبارک کے ساتھ تھا۔اس چوبارہ کے ساتھ کوٹھڑی میں کتب خانہ ہوتا تھا۔جس میں عربی فارسی کی قلمی کتب تھیں۔اس کے بعد میں عموماً اپنے گاؤں میں رہنے لگ گیا۔اور سال میں صرف ایک دو دفعہ قادیان آتا تھا۔جب میں آتا تو حضرت صاحب کے پاس ہی رہتا تھا کیونکہ حضرت صاحب فرماتے تھے۔جب آؤ تو میرے پاس ٹھہرا کرو۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس روایت میں چوبارہ سے مراد غالبا وہ دالان ہے جو بیت الفکر کے ساتھ جانب شمال ہے اور کوٹھڑی سے خود بیت الفکر مراد ہے جو مسجد کے ساتھ متصل ہے۔557 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صدقہ میں جانور کی قربانی بہت کیا کرتے تھے۔گھر میں کوئی بیمار ہو یا کوئی مشکل در پیش ہوئی یا خود یا کسی اور نے کوئی منذر خواب دیکھا تو فوراً بکرے یا مینڈھے کی قربانی کرا دیتے تھے۔زلزلہ کے بعد ایک دفعہ غالباً مفتی محمد صادق صاحب کے لڑکے نے خواب میں دیکھا کہ قربانی کرائی جائے۔جس پر آپ نے چودہ بکرے قربانی کرا دیئے۔غرضیکہ ہمیشہ آپ کی سنت یہی رہی ہے اور فرماتے تھے کہ یہی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایسے صدقہ کے موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ غرباء اور یتامیٰ اور بیوگان کو تلاش کر کے گوشت پہنچانا چاہئے۔تا کہ ان کی تکلیف کے دور ہونے سے خدا راضی ہو اور فرماتے تھے کہ کچھ گوشت جانوروں کو بھی ڈال دینا چاہئے کہ یہ بھی خدا کی مخلوق ہے۔558 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھے سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آپ کے کتب خانہ کے مینیجر محمد سعید صاحب۔حکیم فضل الدین صاحب مرحوم۔پیر سراج الحق صاحب۔پیر منظور محمد صاحب۔میر مہدی حسین صاحب وغیرہ لوگ مختلف اوقات میں رہے