سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 532
سیرت المہدی 532 حصہ سوم نقطہ نگاہ سے ملاحظہ کر لو۔میں اس کو محض حکم کے مطابق پڑھ لیتا ہوں گومیں خوب اچھی طرح جانتا ہوں کہ حضرت کی کتابیں قانونی نگاہ سے دیکھنے کی محتاج نہیں بلکہ اس سے حضور کا یہ مقصود ہوتا ہے کہ میں حضور کی تصنیف کو پڑھ لوں اور سلسلہ کی تعلیم سے واقف رہوں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ محقق صاحب دہلی کے رہنے والے ہیں اور میں نے سُنا ہے کہ ہمارے ننھیال سے ان کی کچھ رشتہ داری بھی ہے۔کسی زمانہ میں غیر مبایعین کے سرگروہوں کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات تھے۔خوب ہوشیار آدمی ہیں۔اور اب خدا کے فضل سے مبالع ہیں۔535 - بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بیان کیا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں میں نے ایک خاص بات دیکھی۔کہ جتنی مرتبہ حضور باہر تشریف لاتے۔میں دوڑ کر السلام علیکم کہتا اور مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتا۔حضور فوراً اپنے ہاتھ میرے ہاتھ میں اس طرح دے دیتے کہ گویا اُس ہاتھ میں بالکل طاقت نہیں ہے یا یہ کہ وہ خالص اس لئے میرے سپرد کیا گیا ہے کہ جو چا ہو اس ہاتھ سے برتاؤ کر لو۔میں اس ہاتھ کو لے کر خوب چومتا اور آنکھوں سے لگا تا اور سر پر پھیرتا۔مگر حضور کچھ نہ کہتے بیسیوں مرتبہ دن میں ایسا کرتا مگر ایک مرتبہ بھی حضور نے نہیں فرمایا کہ تجھے کیا ہو گیا ابھی تو مصافحہ کیا ہے۔پانچ پانچ منٹ بعد مصافحہ کی ضرورت نہیں۔﴿536﴾ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب آنقم کا مباحثہ امرتسر میں ہوا تو پہلے دن حضرت صاحب مع اُن خدام کے جن کے پاس داخلہ کے ٹکٹ تھے وہاں تشریف لے گئے کیونکہ داخلہ بذریعہ ٹکٹ تھا۔کوٹھی کے دروازہ پر ٹکٹ دیکھے جاتے تھے اور صرف ٹکٹ والے اندر جانے پاتے تھے۔میں بچہ ہی تھا اور ساتھ چلا گیا تھا۔محمد کبیر میرا خالہ زاد بھائی بھی ہمراہ تھا۔ہم نے حضرت صاحب سے کہا کہ ہم بھی اندر چلیں گے۔اس وقت گوٹکٹ پورے ہو چکے تھے اور ہم مباحثہ کو پوری طرح سمجھ بھی نہ سکتے تھے۔مگر حضرت صاحب نے ہماری درخواست پر ایک آدمی ڈپٹی عبداللہ انتم یا پادری مارٹن