سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 529
سیرت المہدی 529 حصہ سوم رکھا ہے اور کوئی حملہ ایسا نہیں جو وہ کرسکتی تھی اور پھر اس نے مجھ غریب پر وہ نہیں کیا۔528 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مقبرہ بہشتی میں دو قبروں کے کتنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خود لکھے ہوئے ہیں اور وہ اس بات کا نمونہ ہیں کہ اس مقبرہ کے کتبے کس طرح کے ہونے چاہئیں۔اب جو کتبے عموماً لکھے جاتے ہیں ان سے بعض دفعہ یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ شخص کہاں دفن ہے یا اس کے اندر کیا کیا خوبیاں تھیں یا سلسلہ کی کس کس قسم کی خدمت اس نے کی ہے۔دو کتے جو حضور نے خود لکھے وہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اور صاحبزادہ مبارک احمد کے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کتبہ ہمارے نانا جان مرحوم نے لکھا تھا اور حضرت خلیفہ اول نے درست کیا تھا۔اور حضرت خلیفہ اول کا کتبہ غالباً ہمارے نانا جان مرحوم نے لکھ کر حضرت خلیفہ ثانی کو دکھا لیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کتبہ میں حضرت خلیفہ اول نے صرف اتنی تبدیلی کی تھی کہ جہاں نانا جان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کتبہ کے آخر میں علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ لکھے تھے اُسے حضرت خلیفہ اول نے بدل کر عَلَيْهِ وَعَلَى مُطَاعِهِ مُحَمَّدٍ الصَّلَوةُ وَالسَّلَام کے الفاظ کر دیئے تھے۔529 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام روپیہ کا حساب بڑے اہتمام سے لیتے تھے اور جس شخص کے پاس کسی کام کے لئے روپیہ دیا ہو اور اس کا حساب مشتبہ ہو تو خفا بھی ہوتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ عموماً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی طریق تھا۔جو میر صاحب نے بیان فرمایا ہے لیکن خاص اصحاب کی صورت میں ایسا بھی ہوتا تھا کہ آپ دی ہوئی رقم کا کوئی حساب نہیں لیتے تھے بلکہ جو رقم بھی خرچ کے بعد واپس کی جاتی تھی یا مزید رقم کا مطالبہ کیا جاتا تھا آپ حسب صورت پیش آمدہ بغیر کوئی سوال کئے رقم لے لیتے یا دے دیتے تھے۔530﴾ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبدالرحمن صاحب کشمیر نے مجھ سے بیان کیا کہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم ان سے بیان کرتے تھے کہ جب حضور کے پاس کہیں سے روپیہ آتا تھا تو حضور مجھے بلا لیتے