سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 528
سیرت المہدی 528 حصہ سوم روئے سخن میری ہی طرف ہو۔سوئیں اسی وقت حضور کی خدمت مبارک میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ اگر حضور ہماری ان باتوں سے تنگ ہوتے ہوں تو ہم انہیں چھوڑ دیں۔حضور نے فرمایا۔نہیں نہیں بلکہ بار بار لکھو، جتنا زیادہ یاد دہانی کراؤ گے اتنا ہی بہتر ہوگا۔525 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت کی عادت میں دن کے کسی خاص وقت میں قیلولہ کرنا داخل نہ تھا۔آرام صرف کام پر منحصر تھا۔بعض اوقات نصف شب یا اس سے زیادہ یا کبھی کبھی تمام رات ہی تحریر میں گزار دیا کرتے تھے۔صبح کی نماز سے واپس آکر بھی سولیا کرتے تھے اور کبھی نہیں بھی سوتے تھے۔سیر کو اکثر سورج نکلے تشریف لے جایا کرتے تھے اور گھر سے نکل کر احمد یہ چوک میں کھڑے ہو جاتے اور جب تک مہمان جمع نہ ہو لیتے کھڑے رہتے اور اس کے بعد روانہ ہوتے۔526 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصافحہ کبھی صرف دائیں ہاتھ سے کرتے تھے اور کبھی دائیں اور بائیں دونوں سے کرتے تھے مخلصین آپ کے ہاتھوں کو بوسہ بھی دیتے تھے اور آنکھوں سے بھی لگاتے تھے اور بسا اوقات حضور کے کپڑوں پر بھی برکت حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پھیرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ سب نظارے سوائے دونوں ہاتھوں کے مصافحہ کے میں نے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔527 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر یرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک مستعمل کتاب ازالہ اوہام میرے پاس بطور تبرک کے رکھی ہے۔اس میں حضرت صاحب نے اپنے ہاتھ سے ایک شعر لکھا ہوا ہے۔جو میرے خیال میں حضور کا اپنا بنایا ہوا ہے۔شعریہ ہے۔اس قوم مرا نشانه نفرین کرد ہر حملہ که داشت برمن مسکین کرد خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ میری قوم نے مجھے نفرت و حقارت کا نشانہ بنا