سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 527
سیرت المہدی 527 حصہ سوم باجماعت نماز پڑھ رہے ہوں تو ہم اس وقت نماز کیسے پڑھیں؟ آپ نے فرمایا۔تم اپنی الگ پڑھ لو۔اس نے کہا کہ حضور جب جماعت ہو رہی ہو تو الگ نماز پڑھنی جائز نہیں۔فرمایا: کہ اگر ان کی نماز باجماعت عند اللہ کوئی چیز ہوتی تو میں اپنی جماعت کو الگ پڑھنے کا حکم ہی کیوں دیتا ان کی نماز اور جماعت جناب الہی کے حضور کچھ حقیقت نہیں رکھتی۔اس لئے تم اپنی نماز الگ پڑھو اور مقررہ اوقات میں جب چاہو ادا کر سکتے ہو۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس وقت کسی مسجد میں دوسروں کی جماعت ہورہی ہوضرور اسی وقت نماز پڑھی جائے کیونکہ اس سے بعض اوقات فتنہ کا احتمال ہوتا ہے بلکہ غرض یہ ہے کہ ایک احمدی بہر حال الگ نماز پڑھے۔اور دوسروں کے پیچھے نہ پڑھے۔522 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ خاکسار نے ۱۹۰۴ء میں بمقام گورداسپور بارہا حضرت احمد علیہ السلام کو دیکھا ہے کہ آپ عدالت میں پیشی کے واسطے تیزی سے سڑک پر جارہے ہیں اور سامنے سے کوئی شخص دودھ یا پانی لایا تو آپ نے وہیں بیٹھ کر پی لیا اور کھڑے ہوکر نہ پیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ کھڑے ہو کر پانی پینا نا جائز نہیں ہے مگر بہتر یہی ہے کہ بیٹھ کر تسلی سے پیا جاوے۔523 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سلام کا اس قدر خیال تھا کہ حضور اگر چند لمحوں کے لئے بھی جماعت سے اُٹھ کر گھر جاتے اور پھر واپس تشریف لاتے تو ہر بار جاتے بھی اور آتے بھی السلام علیکم کہتے۔524 بسم اللہ الرحمن الرحیم سیٹھی غلام نبی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے فرمایا۔کہ لوگ حضرت صاحب کو تنگ کرتے ہیں اور بار بار دعا کے لئے رقعہ لکھ کر اوقات گرامی میں حارج ہوتے ہیں۔میں نے خیال کیا کہ میں بھی حضور کو بہت تنگ کرتا ہوں شاید