سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 526 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 526

سیرت المہدی 526 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس اصول کو اپنی کتب میں بھی بیان کیا ہے۔مگر میں جب اپنے نفس میں نگاہ کرتا ہوں۔تو شرم کی وجہ سے پانی پانی ہو جاتا ہوں۔کہ خدا تعالے ہمارے جیسے کمزور انسان کی پیدائش کو بھی بشارت کے قابل خیال کرتا ہے۔پھر اُس وقت اس کے سوا سارا فلسفہ بھول جاتا ہوں۔کہ خدا کے فضل کے ہاتھ کو کون روک سکتا ہے۔اَللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ - 520 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے بھائی محمود احمد صاحب ساکن ڈنگہ ضلع گجرات سے سُنا ہے کہ جن دنوں کرم دین والا مقدمہ گورداسپور میں دائر تھا عموماً حضرت اقدس مقدمہ کی تاریخوں پر قادیان سے علی الصبح روانہ ہوتے تھے اور نماز فجر راستہ میں ہی حضرت مولوی فضل الدین صاحب بھیروی کی امامت میں ادا فرماتے تھے۔ایک دفعہ بڑاں کی نہر کے قریب نماز فجر کا جو وقت ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ نماز فجر کا وقت ہو گیا ہے یہیں نماز پڑھ لی جائے۔اصحاب نے عرض کی کہ حضور حکیم مولوی فضل الدین صاحب آگے نکل گئے ہیں اور خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب ساتھ ہیں۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام خاموش ہو گئے اور خود ہی امامت فرمائی۔پہلی رکعت فرض میں آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں سورۃ اخلاص تلاوت فرمائی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں فطرتا اس قسم کی روایتوں کے لینے میں تامل کرتا ہوں جن میں اس وقت کے ایک مخالف گروہ پر زد پڑتی ہے۔مگر جب میرے پاس ایک روایت پہنچتی ہے اور میں اس میں شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں دیکھتا۔اور نہ ہی راوی میں کوئی طعن پاتا ہوں تو اُس کے قبول کرنے پر مجبور ہوتا ہوں اور خیال کرتا ہوں کہ شاید اس قسم کے واقعات خدائی تصرف کے ماتحت وقوع پذیر ہوئے ہوں وَاللَّهُ أَعْلَمُ - 521 بسم الله الرحمن الرحیم۔حافظ محمدابراہیم صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ غالبا ۱۹۰۴ء کا واقعہ ہے کہ ایک شخص نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے مسجد مبارک میں سوال کیا۔کہ حضور اگر غیر احمدی