سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 525
سیرت المہدی 525 حصہ سوم پڑھتا ہوں۔دوا لگ اور ایک الگ۔ہاں ایک بھی جائز ہے۔اس کے بعد میں نے بھی ہمیشہ حضور ہی کی طرح وتر پڑھے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ سیکھواں ایک گاؤں کا نام ہے۔جو قادیان سے چار میل کے فاصلہ پر جانب غرب واقع ہے۔اس جگہ کے تین بھائی میاں جمال الدین۔میاں امام الدین اور میاں خیر الدین صاحبان حضرت صاحب کے قدیم اور مخلص صحابہ میں سے ہیں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ گومیاں خیر الدین صاحب سیکھوانی کا مجھ سے قریباً روز کا ملنا ہے۔لیکن ان کی اکثر روایات مجھے مکرم مرزا عبدالحق صاحب وکیل گورداسپور نے لکھ کر دی ہیں۔فَجَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا۔518 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میرے بچے چھوٹی عمر میں فوت ہو جاتے تھے۔اسی طرح میرے بھائی امام الدین صاحب کے بھی۔میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا کہ کشتہ فولاد قلمی سیاہی کی طرح کا دو ماہ کے حمل پر ایک رتی ہمراہ دودھ یا پانی استعمال کرانا شروع کر دیں۔اور بچہ کے پیدا ہونے کے بعد بھی دُودھ چھوڑنے تک جاری رکھا جائے۔اس نسخہ کے استعمال سے خدا کے فضل و کرم سے میرے بچے زندہ رہے۔جن میں سے ایک مولوی قمر الدین مولوی فاضل ہیں۔میرے بھائی امام دین صاحب کے لڑکے بھی اس کے بعد زندہ رہے۔جن میں سے ایک مولوی جلال الدین صاحب شمس حال مبلغ لندن ہیں۔اور بھی سینکڑوں آدمیوں کو یہ نسخہ استعمال کرایا۔اور نہایت مفید ثابت ہوا۔519 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب کشمیر نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ چودھری حاکم علی صاحب نے ان سے ذکر کیا تھا کہ میں نے مسیح موعود علیہ السلام سے سُنا ہے کہ اللہ تعالے ایک ولی کو بھی خراب اولاد کی بشارت نہیں دیتا۔چہ جائیکہ مسیح موعود کو وہ ایسی خبر دے۔یہ حضور علیہ السلام اپنی اولاد کے حق میں فرماتے تھے کہ وہ بُرے نہیں ہونگے بلکہ متقی اور صالح ہوں گے کیونکہ خدا تعالے نے ان کی نسبت بشارت دی ہے۔