سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 524 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 524

سیرت المہدی 524 حصہ سوم 516 بسم الله الرحمن الرحیم۔شیخ غلام حسین صاحب لدھیانوی ہیڈ ڈرافٹسمین سنٹرل آفس نئی دہلی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ شیخ فرمان علی صاحب بی۔اے۔اسٹنٹ انجینئیر ساکن دھرم کوٹ بگہ ضلع گورداس پور نے جو کہ ۱۹۱۵ء میں لیڈی ہارڈنگ کا لج نئی دہلی کی عمارت تعمیر کر رہے تھے۔مجھ سے ذکر کیا تھا۔کہ ایک دفعہ مولوی فتح دین صاحب مرحوم دھرم کوئی نے جو کہ عالم جوانی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہے ہیں۔ان سے بیان کیا۔کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضورا کثر ہوا کرتا تھا اور کئی مرتبہ حضور کے پاس ہی رات کو بھی قیام کیا کرتا تھا۔ایک مرتبہ میں نے دیکھا۔کہ آدھی رات کے قریب حضرت صاحب بہت بیقراری سے تڑپ رہے ہیں اور ایک کو نہ سے دوسرے کو نہ کی طرف تڑپتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔جیسے کہ ماہی بے آب تڑپتی ہے یا کوئی مریض شدت درد کی وجہ سے تڑپ رہا ہوتا ہے۔میں اس حالت کو دیکھ کر سخت ڈر گیا اور بہت فکر مند ہوا اور دل میں کچھ ایسا خوف طاری ہوا کہ اس وقت میں پریشانی میں ہی مبہوت لیٹا رہا۔یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ حالت جاتی رہی۔صبح میں نے اس واقعہ کا حضور علیہ السلام سے ذکر کیا کہ رات کو میری آنکھوں نے اس قسم کا نظارہ دیکھا ہے۔کیا حضور کو کوئی تکلیف تھی۔یا درد گردہ وغیرہ کا دورہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔”میاں فتح دین کیا تم اس وقت جاگتے تھے؟ اصل بات یہ ہے کہ جس وقت ہمیں اسلام کی مہم یاد آتی ہے۔اور جو جو مصیبتیں اس وقت اسلام پر آرہی ہیں۔ان کا خیال آتا ہے۔تو ہماری طبیعت سخت بے چین ہو جاتی ہے۔اور یہ اسلام ہی کا درد ہے۔جو ہمیں اس طرح بے قرار کر دیتا ہے۔“ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی فتح دین صاحب مرحوم دھرم کوٹ متصل بٹالہ کے رہنے والے تھے اور قدیم مخلص صحابہ میں سے تھے۔نیز خاکسار خیال کرتا ہے۔کہ یہ واقعہ ابتدائی زمانہ کا ہے۔517 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر دین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں وتروں کے متعلق سوال کیا کہ وہابی پانچ وتر بھی پڑھتے ہیں۔تین بھی پڑھتے ہیں اور ایک بھی۔ان میں سے کونسا طریق درست ہے۔حضور نے فرمایا۔کہ میں تو تین وتر