سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 491
سیرت المہدی 491 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوعُود حصہ سوم عرض حال خاکسار اللہ تعالے کا ہزار ہزار شکر بجالاتا ہے کہ ایک لمبے عرصہ کے بعد مجھے سیرت المہدی کے حصہ سوم کے شائع کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے۔وَذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَآءُ وَاللَّهُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِيمِ - سیرۃ المہدی کا حصہ اوّل ۱۹۲۳ء میں شائع ہوا تھا اور پھر اس کے بعد حصہ دوم ۱۹۲۷ء میں شائع ہوا اور اب ۱۹۳۹ء میں حصہ سوم شائع ہورہا ہے اس عرصہ میں سیرۃ المہدی حصہ اول کا دوسرا ایڈیشن بھی ۱۹۳۵ء میں نکل چکا ہے جس میں پہلے ایڈیشن کی بعض غلطیوں کی اصلاح کی جاچکی ہے اور بعض قابل تشریح باتوں کی تشریح بھی درج ہو چکی ہے۔اور اب حصہ اول کا یہی ایڈیشن مستند سمجھا جانا چاہئیے۔سیرۃ المہدی حصہ دوم کی اشاعت کے بعد بعض ایسے حالات پیش آئے جن کی وجہ سے میں سمجھا کہ شاید آئندہ میں اس کام کو جاری نہیں رکھ سکوں گا مگر بالآخر خدا نے اس حالت کو بدل دیا اور مجھے توفیق دی کہ میں اس کتاب کے تیسرے حصہ کو مرتب کر سکوں۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ۔نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ الْوَكِيْلِ۔حصہ سوم جو اس وقت دوستوں کے ہاتھ میں جا رہا ہے۔اس میں میں نے اپنی حاشیہ آرائی کو بہت کم کر دیا ہے۔یعنی وہ لمبے لمبے تشریحی نوٹ جو میں پہلے دو حصوں میں لکھتا رہا ہوں۔تیسرے حصہ میں ان کا رنگ بدل کر انہیں مختصر کر دیا گیا ہے تاکہ روایات کا قدرتی حسن مصنوعی تزئین کے سامنے مغلوب نہ ہونے پائے ، تاہم کہیں کہیں جہاں ضروری تھا وہاں تشریح درج کی گئی ہے۔یہ تشریح دو قسم کے موقعوں پر درج ہوئی ہے۔اول ایسے موقعوں پر کہ جہاں تشریح کے بغیر روایت کا صحیح مطلب سمجھنے میں غلط نہی کا امکان نظر آیا ہے۔دوسرے جہاں کسی اضافہ سے روایت کی حقیقی غرض کو مزید جلا ملنے کی امید ہوئی ہے۔ان کے سوامیں نے کوئی تشریحی نوٹ نہیں دیا۔