سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 482
سیرت المہدی 482 حصہ دوم کے خلاف کوئی روایت قابل شنوائی نہیں ہو سکتی۔مگر طریق عمل کا فیصلہ کرنا کارے دارد۔اور میں اس شیر دل انسان کو دیکھنا چاہتا ہوں جو یہ دعوی کرے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا طریق عمل قرار دینے میں اس کی رائے غلطی کے امکان سے بالا ہے۔اسی طرح بے شک جو روایت حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تحریرات کے خلاف ہو اسے کوئی احمدی قبول نہیں کر سکتا۔مگر تحریرات کا مفہوم معین کرنا بعض حالتوں میں اپنے اندر ایسی مشکلات رکھتا ہے جن کا حل نہایت دشوار ہو جاتا ہے اور مجھے ایسے شخص کی جرات پر حیرت ہوگی جو یہ دعوی کرے کہ حضرت کی تحریرات کا مفہوم معین کرنے میں اس کا فیصلہ ہر صورت میں یقینی اور قطعی ہوتا ہے پس جب درایت کا پہلو اپنے ساتھ غلطی کے احتمالات رکھتا ہے تو اس پر ایسا اندھا دھند اعتماد کرنا کہ جو بھی روایت اپنی درایت کے خلاف نظر آئے اسے غلط قرار دے کر رڈ کر دیا جائے۔ایک عامیانہ فعل ہوگا جو کسی صورت میں بھی سلامت روی اور حق پسندی پر بنی نہیں سمجھا جاسکتا۔مثال کے طور پر میں ڈاکٹر صاحب کے سامنے مسئلہ نبوت پیش کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات ہر دوفریق کے سامنے ہیں لیکن مبائعین کی جماعت ان تحریرات سے یہ نتیجہ نکالتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نبوت کا دعوی کیا ہے اور غیر مبائعین یہ استدلال کرتے ہیں کہ آپ نے نبوت کا دعوی نہیں کیا۔اور فریقین کے استدلال کی بنیاد حضرت مسیح موعود کی تحریرات پر ہے۔اب اگر درایت کے پہلوکو آنکھیں بند کر کے ایسا مرتبہ دیدیا جائے کہ جس کے سامنے روایت کسی صورت میں بھی قابل قبول نہ ہو تو اس کا نتیجہ سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ جو روایت غیر مبائعین کو ایسی ملے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت ثابت ہوتی ہو تو وہ اسے رڈ کر دیں۔کیونکہ وہ بقول ان کے آپ کی تحریرات کے خلاف ہے اور اگر کوئی روایت مبائعین کے سامنے ایسی آئے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبوت کا دعویٰ نہیں تھا تو وہ اسے قبول نہ کریں کیونکہ بقول ان کے یہ روایت حضرت صاحب کی تحریرات کے خلاف ہے۔اسی طرح مبائعین کا یہ دعویٰ ہے کہ غیر احمدیوں کا جنازہ پڑھنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طریق عمل کے خلاف تھا اور غیر مبائعین یہ کہتے ہیں کہ جو غیر احمدی مخالف نہیں ہیں