سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 468
سیرت المہدی 468 چاہیے نہ کہ جائے اعتراض۔لیکن حقیقت امر یہ ہے کہ میں نے نقل کے خیال سے ایسا نہیں کیا۔حصہ دوم والله على ما اقول شهيد ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ جہاں راوی خود مصنف صاحب ہوتے ہیں وہاں عربی چولا اُتر جاتا ہے وہاں روایت یوں شروع ہوتی ہے کہ خاکسار عرض کرتا ہے ہونا تو یوں چاہیے تھا کہ عرض کرتا ہے خاکسار اس استہزاء کے جواب میں سلام عرض کرتا ہوں۔ایک طرف مضمون کے تقدس کو دیکھئے اور دوسری طرف اس تمسخر کو! مکرم ڈاکٹر صاحب ! حیرت کا مقام یہ ہے نہ کہ وہ جس پر آپ محو حیرت ہونے لگتے ہیں۔افسوس! چوتھا اصولی اعتراض جو جناب ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون کے شروع میں بیان کیا ہے یہ ہے کہ سیرۃ المہدی حصہ اول میں راویوں کے ” صادق و کاذب عادل وثقہ ہونے کے متعلق کوئی احتیاط نہیں برتی گئی اور نہ راویوں کے حالات لکھے ہیں۔کہ ان کی اہلیت کا پتہ چل سکے اور دوسری یہ کہ بعض روایتوں میں کوئی راوی چھٹا ہوا معلوم ہوتا ہے گویا کتاب کے اندر مرسل روایتیں درج ہیں جو پا یہ اعتبار سے گری ہوئی ہیں اور پھر اس کے بعد یہ مذاق اڑایا ہے کہ احادیث کی ظاہری نقل تو کی گئی ہے لیکن محد ثین کی '' تنقید اور باریک بینیوں“ کا نام ونشان نہیں اور روایات کے جمع کرنے میں ” بھونڈا پن اختیار کیا گیا ہے الغرض ڈاکٹر صاحب کے نزدیک سیرۃ المہدی ایک گڑ بڑ مجموعہ ہے اور مصنف یعنی خاکسار نے ” مفت میں اپنا مذاق اُڑوایا ہے چونکہ ڈاکٹر صاحب نے اس جگہ مثالیں نہیں دیں اس لئے میں حیران ہوں کہ کیا جواب دوں۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ راویوں کے صادق و کاذب ہونے کا کوئی پتہ نہیں۔میں عرض کرتا ہوں کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کو کھول کر ملا حظہ فرمائیے ان میں بھی راویوں کے صادق و کاذب ہونے کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔کم از کم مجھے بخاری اور مسلم کے اندر بلکہ کسی تاریخ و سیرت کی کتاب کے اندر یہ بات نظر نہیں آتی کہ راویوں کے صادق و کاذب ، ثقہ و عدم ثقہ ہونے کے متعلق بیان درج ہو بلکہ اس قسم کی بحثوں کے لئے الگ کتابیں ہوتی ہیں جو اسماء الرجال کی کتابیں کہلاتی ہیں اور جن میں مختلف راویوں کے حالات درج