سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 467
سیرت المہدی 467 حصہ دوم ہیں جس میں سوائے اصلاح کے خیال کے اور کسی غرض و غایت کا شائبہ نہیں ہوتا۔مگر افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے دل کو ایسی وسعت حاصل نہیں ہے کہ وہ بزعم خود کوئی قابل گرفت بات دیکھ کر پھر بغیر اعتراض جمائے صبر کر سکیں۔اور زیادہ قابل افسوس یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب اعتراض بھی ایسے لب ولہجہ میں کرتے ہیں۔جس میں بجائے ہمدردی اور اصلاح کے تحقیر و تمسخر کا رنگ نظر آتا ہے۔بہر حال اب جب کہ ڈاکٹر صاحب نے یہ اعتراض اپنے اصولی اعتراضات میں شامل کر کے پبلک کےسامنے پیش کیا ہے مجھے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں۔کہ اس کے جواب میں حقیقت حال عرض کروں۔بات یہ ہے کہ جیسا کہ سیرۃ المہدی کے آغاز میں مذکور ہے۔میں نے سیرۃ المہدی کی ابتدائی چند سطور تبرک و تیمن کے خیال سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیت الدعا میں جا کر دعا کرنے کے بعد وہیں بیٹھے ہوئے تحریر کی تھیں۔اور میں خدا تعالیٰ کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں۔کہ بغیر کسی تصنع یا نقل کے خیال کے یہ چند ابتدائی سطور مجھ سے اس طرح لکھی گئیں۔جس طرح کہ عربی عبارت کا دستور ہے۔بلکہ چونکہ اس وقت میرے جذبات قلبی ایک خاص حالت میں تھے۔میں نے یہ محسوس بھی نہیں کیا کہ میں عام محاورہ اردو کے خلاف لکھ رہا ہوں۔پھر جب بعد میں بیت الدعا سے باہر آکر میں نے ان سطور کو پڑھا تو میں نے محسوس کیا کہ میرے بعض فقرے عربی کے محاورہ کے مطابق لکھے گئے ہیں اور پھر اس کے بعد میرے بعض دوستوں نے جب سیرۃ کا مسودہ دیکھا تو انہوں نے بھی مجھے اس امر کی طرف توجہ دلائی۔لیکن خواہ ڈاکٹر صاحب موصوف اسے میری کمزوری سمجھیں یا وہم پرستی قرار دیں یا حسن ظنی سے کام لینا چاہیں تو تقاضائے محبت و احترام پر محمول خیال فرمالیں۔مگر بہر حال حقیقت یہ ہے کہ میں نے ان سطور کو جو میں نے دعا کے بعد بیت الدعا میں بیٹھ کر کھی تھیں بدلنا نہیں چاہا۔چنانچہ وہ اسی طرح شائع ہوگئیں۔اس سے زیادہ میں اس اعتراض کے جواب میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ تم نے حدیث کی نقل میں ایسا کیا ہے اور گو میرے نزدیک اچھی اور اعلیٰ چیزیں اس قابل ہوتی ہیں کہ ان کی اتباع اختیار کی جائے۔اور اگر نیت بخیر ہو تو ایسی اتباع اور نقل خواہ وہ ظاہری ہو یا معنوی اہل ذوق کے نزدیک موجب برکت سمجھی جانی