سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 442
سیرت المہدی 442 حصہ دوم میں یا اور کسی طرح کسی حاکم کے سامنے جانا ہو تو جانے سے پہلے سات مرتبہ سورۃ فاتحہ پڑھ لینی چاہیے۔اور سات مرتبہ اپنی انگلی سے اپنی پیشانی پر یا عزیز “ لکھ لینا چاہیے۔اس طرح اللہ تعالیٰ کا میابی دیتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے یہ طریق غالباً حالت استغناء عن غیر اللہ اور حالت تو کل علی اللہ کے پیدا کرنے کے لئے ہے۔469 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب فیض اللہ چک والے نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ فرشتوں نے جو آدم کی پیدائش کے وقت کہا تھا۔اَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيْهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ (البقرة: ۳۱) سوحضرت آدم سے تو کوئی ایسا فعل سرزد نہیں ہوا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کی نظر مستقبل پر جاپڑی ہوگی۔یعنی ان کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ آئندہ نسل آدم میں ایسے ایسے واقعات ہوں گے۔اس سے ہمیں بعض اوقات خیال آتا ہے کہ یہ جو ہمارے بعض مخالف کہتے ہیں کہ ان کو ہمارے خلاف الہام ہوا ہے ممکن ہے کہ یہ بھی جھوٹے نہ ہوں اور کسی آئندہ کے زمانہ میں ہمارے سلسلہ میں بعض خرابیاں پیدا ہو جائیں جیسا کہ بعد زمانہ سے ہر امت میں پیدا ہو جایا کرتی ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مخالفوں کے الہام کا سچا یا جھوٹا ہونا تو الگ سوال ہے۔لیکن حضرت صاحب کی احتیاط اور حسن ظنی کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔جس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔ایک طرف مخالفین ہیں جو ہزار ہانشانات دیکھ کر اور سینکڑوں دلائل و براہین کا مطالعہ کر کے پھر بھی جھوٹا اور مفتری کہتے چلے جاتے ہیں اور دوسری طرف حضرت مسیح موعود ہیں کہ باوجود اس یقین کامل کے کہ آپ حق پر ہیں اور آپ کے مخالفین سراسر باطل پر ہیں۔آپ ان کے متعلق حسن ظنی کا دامن نہیں چھوڑتے اور جھوٹا کہنے سے تامل فرماتے ہیں اسی قسم کا منظر آنحضرت ﷺ کے حالات زندگی میں بھی نظر آتا ہے۔ابن صیاد جس کے متعلق بعض صحابہ نے یہاں تک یقین کر لیا تھا کہ وہ دجال ہے وہ آنحضرت ﷺ کے سامنے آتا ہے اور آپ سے پوچھتا ہے کہ کیا آپ مجھے خدا کا رسول نہیں مانتے ؟ آپ جواب میں یہ نہیں فرماتے کہ تو جھوٹا ہے بلکہ یہ فرماتے ہیں کہ میں تو خدا کے سارے رسولوں کو مانتا ہوں۔اللہ للہ اللہ اللہ کیا شان دلر بائی ہے۔