سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 38
سیرت المہ المهدی 38 حصہ اوّل جن اسماء کے گرد چوکور خطوط دکھائے گئے ہیں وہ ان لوگوں کے نام ہیں جو ۱۸۶۵ء میں قادیان میں حصہ دار درج تھے۔قادیان کی کل ملکیت پانچ حصوں میں تقسیم کی گئی تھی۔دو حصے اولاد مرزا تصدق جیلانی کو آئے تھے اور دو حصے اولا د مرزا گل محمد صاحب کو اور ایک حصہ خاص مرزا غلام مرتضی صاحب کو بحیثیت منصرم کے آیا تھا جو بعد میں صرف ان کی اولاد میں تقسیم ہوا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے دادا صاحب کی وفات کے بعد غیر قابض شرکاء نے مرزا امام الدین وغیرہ کی فتنہ پردازی سے ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب پر دخل یابی جائیداد کا دعوی دائر کر دیا اور بالآخر چیف کورٹ سے تایا صاحب کے خلاف فیصلہ ہوا۔اس کے بعد پسران مرزا تصدق جیلانی اور مرزا غلام غوث ولد مرزا قاسم بیگ کا حصہ تو اس سمجھوتے کے مطابق جو پہلے سے ہو چکا تھا مرزا اعظم بیگ لاہوری نے خرید لیا جس نے مقدمہ کا سارا خرچ اسی غرض سے برداشت کیا تھا اور پسران غلام محی الدین صاحب اپنے اپنے حصہ پر خود قابض ہو گئے۔مرزا غلام حسین کی چونکہ نسل نہیں چلی اس لئے ان کا حصہ پسران مرزا غلام مرتضی صاحب و پسران مرزا غلام محی الدین کو آ گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت مرزا تصدق جیلانی اور مرزا قاسم بیگ کی تمام شاخ معدوم ہو چکی ہے۔على هذا القياس مرزا غلام حیدر کی بھی شاخ معدوم ہے۔ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب اور مرزا امام الدین اور مرزا کمال الدین بھی لا ولد فوت ہوئے۔ہاں مرزا نظام الدین کا ایک لڑکا مرزاگل محمد موجود ہے مگر وہ احمدی ہو کر حضرت صاحب کی روحانی اولاد میں داخل ہو چکا ہے۔قَالَ اللَّهُ تَعَالَى " يَنْقَطِعُ ابَاؤُكَ وَيُبْدَءُ مِنكَ ( تذکرہ صفحہ ۳۹۷ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) اور یہ الہام اس وقت کا ہے جب آپ کے شجرہ خاندانی کی یہ تمام شاخیں سرسبز تھیں۔49 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا۔اور ادھر اُدھر پھراتا رہا۔پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور