سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 37 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 37

سیرت المہدی 37 حصہ اوّل صاحب کے بعد بالکل بند ہوگئی ، علاوہ ازیں ان تغیرات عظیمہ یعنی سکھوں کے آخر عہد کی بدامنی اور پھر سلطنت کی تبدیلی کے نتیجہ میں قادیان اور اس کے گردونواح کے متعلق ہمارے حقوق مالکانہ کے بارے میں بھی کئی سوال اور تنازعات پیدا ہو گئے چنانچہ اس زمانہ میں بعض دیہات کے متعلق ہمارے حقوق بالکل تلف ہو گئے اور صرف قادیان اور چند ملحقہ دیہات کے متعلق دادا صاحب نے زر کثیر صرف کر کے کچھ حقوق واپس لئے۔سنا گیا ہے کہ مقدمات سے پہلے دادا صاحب نے تمام رشتہ داروں سے کہا کہ میں مقدمہ کرنا چاہتا ہوں اگر تم نے ساتھ شامل ہونا ہے تو ہو جاؤ لیکن چونکہ کامیابی کی امید کم تھی اس لئے سب نے انکار کیا اور کہا کہ آپ ہی مقدمہ کریں اور اگر کچھ ملتا ہے تو آپ ہی لے لیں۔لیکن جب کچھ حقوق مل گئے تو دادا صاحب کے مختار کی سادگی سے تمام رشتہ داروں کا نام خانہ ملکیت میں درج ہو گیا مگر قبضہ صرف دادا صاحب کا رہا اور باقیوں کو صرف آمد سے کچھ حصہ مل جاتا تھا۔ہمارے خاندان کا ۱۸۶۵ء کے قریب کا شجرہ درج ذیل ہے۔مرزا ہادی بیگ مورث اعلیٰ مرزا محمد اسلم مرز امحمد قائم مرزا فیض محمدم مرز اگل محمد مرزا عطا محمد مرزا میر محمد مرزا نور محمد مرزا اتصدق جیلانی مرزا قاسم بیگ مرز اعلام رسول مرزا غلام صمدانی مرزا غلام جیلانی مرز اغلام نحوست مسماة سندن بیوه مسماة سكينہ بیوہ عرف بولا مرزا غلام رسول مرزا غلام صمدانی مرز اغلام مصطفه مرز اغلام مرتضے مرز اعلام محمد مرز اغلام محی الدین مرزا غلام حیدر مرزا غلام قادر حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود مرزا غلام حسین عرف حسین بیگ مرز امام الدین مرز انظام الدین مرزا کمال دین