سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 417 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 417

سیرت المہدی 417 حصہ دوم رہتے تھے۔آپ کا طرز عمل مَا اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ “ کے ماتحت تھا کہ کسی مصنوعی جکڑ بندی میں جو شرعاً غیر ضروری ہے پابند رہنا آپ کے مزاج کے خلاف تھا اور نہ آپ کو کبھی پرواہ تھی کہ لباس عمدہ ہے یا برش کیا ہوا ہے یا بٹن سب درست لگے ہوئے ہیں یا نہیں صرف لباس کی اصلی غرض مطلوب تھی۔بارہا دیکھا گیا کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے ہی میں لگے ہوئے ہوتے تھے بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگائے ہوئے دیکھے گئے۔آپ کی توجہ ہمہ تن اپنے مشن کی طرف تھی اور اصلاح امت میں اتنے محو تھے کہ اصلاح لباس کی طرف توجہ نہ تھی۔آپ کا لباس آخر عمر میں چند سال سے بالکل گرم وضع کا ہی رہتا تھا۔یعنی کوٹ اور صدری اور پاجامہ گرمیوں میں بھی گرم رکھتے تھے اور یہ علالت طبع کے باعث تھا۔سردی آپ کو موافق نہ تھی۔اس لئے اکثر گرم کپڑے رکھا کرتے تھے۔البتہ گرمیوں میں نیچے کر یہ لمل کا رہتا تھا بجائے گرم گرتے کے۔پاجامہ آپ کا معروف شرعی وضع کا ہوتا تھا ( پہلے غرارہ یعنی ڈھیلا مردانہ پاجامہ بھی پہنا کرتے تھے۔مگر آخر عمر میں ترک کر دیا تھا مگر گھر میں گرمیوں میں کبھی کبھی دن کو اور عادتا رات کے وقت تہ بند باندھ کر خواب فرمایا کرتے تھے۔صدری گھر میں اکثر پہنے رہتے مگر کوٹ عموماً باہر جاتے وقت ہی پہنتے اور سردی کی زیادتی کے دنوں میں اوپر تلے دو دوکوٹ بھی پہنا کرتے بلکہ بعض اوقات پوستین بھی۔صدری کی جیب میں یا بعض اوقات کوٹ کی جیب میں آپکا رومال ہوتا تھا۔آپ ہمیشہ بڑا رومال رکھتے تھے۔نہ کہ چھوٹا معلمینی رومال جو آج کل کا بہت مروج ہے اسی کے کونوں میں آپ مشک اور ایسی ہی ضروری ادویہ جو آپ کے استعمال میں رہتی تھیں اور ضروری خطوط وغیرہ باندھ رکھتے تھے اور اسی رومال میں نقد و غیرہ جونز رلوگ مسجد میں پیش کر دیتے تھے باندھ لیا کرتے۔گھڑی بھی ضرور آپ اپنے پاس رکھا کرتے مگر اس کی کنجی دینے میں چونکہ اکثر ناغہ ہو جاتا اس لئے اکثر وقت غلط ہی ہوتا تھا۔اور چونکہ گھڑی جیب میں سے اکثر نکل پڑتی اس لئے آپ اسے بھی رومال میں باندھ لیا کرتے۔گھڑی کو ضرورت کیلئے رکھتے نہ زیبائش کیلئے۔