سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 36
سیرت المہدی 36 حصہ اوّل ان کے زمانہ میں سکھوں کی طرف سے ہماری جدی ریاست پر حملے شروع ہو گئے تھے اور کئی گاؤں چھن بھی گئے تھے مگر انہوں نے بڑا حصہ جاگیر کا بچائے رکھا ان کی وفات کے بعد جو غالبا ۱۸۰۰ء میں واقع ہوئی ان کے لڑکے مرزا عطا محمد صاحب خاندان کے رئیس ہوئے ان کے زمانہ میں رام گڑھی سکھوں نے ساری ریاست چھین لی اور ان کو قادیان میں جو ان دنوں میں فصیل سے محفوظ تھا محصور ہونا پڑا۔آخر سکھوں نے دھوکے سے شہر پر قبضہ پالیا اور ہمارے کتب خانے کو جلا دیا اور مرزا عطا محمد صاحب کو مع اپنے عزیزوں کے قادیان سے نکل جانا پڑا۔چنانچہ مرزا عطا محمد صاحب بیگووال ریاست کپورتھلہ میں چلے گئے جہاں کے سکھ رئیس نے ان کو بڑی عزت سے جگہ دی اور مہمان رکھا۔چند سال کے بعد مرزا عطا محمد صاحب کو دشمنوں نے زہر دلوا دیا اور وہ فوت ہو گئے اس وقت ہمارے دادا صاحب کی عمر چھوٹی تھی مگر والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ باوجود اس کے وہ اپنے والد صاحب کا جنازہ قادیان لائے تا خاندانی مقبرہ میں دفن کریں۔یہاں کے سکھوں نے مزاحمت کی لیکن قادیان کی عام پبلک خصوصاً کمیں لوگوں نے دادا صاحب کا ساتھ دیا اور حالت یہاں تک پہنچی کہ سکھوں کو خوف پیدا ہوا کہ بغاوت نہ ہو جاوے اس لئے انہوں نے اجازت دے دی۔اس کے بعد دادا صاحب واپس چلے گئے۔اس زمانہ میں سکھوں نے ہماری تمام جائداد اور مکانات پر قبضہ کیا ہوا تھا اور بعض مسجدوں کو بھی دھرم سالہ بنالیا تھا۔پھر راجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں رام گڑھیوں کا زور ٹوٹ گیا اور سارا ملک را جہ رنجیت سنگھ کے ماتحت آ گیا۔اس وقت دادا صاحب نے را جہ سے اپنی جدی جائداد کا کچھ حصہ واپس حاصل کیا اور قادیان واپس آگئے اس کے بعد دادا صاحب اور ان کے چھوٹے بھائی مرزا غلام محی الدین صاحب نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ماتحت کئی فوجی خدمات انجام دیں۔چنانچہ یہ سب باتیں کتاب پنجاب چیفس مصنفہ سر لیپل گریفن میں مفصل درج ہیں۔سکھ حکومت کے اختتام پر پھر ملک میں بدامنی پھیلی اور ہمارے خاندان کو پھر مصائب کا سامنا ہوا چنانچہ ہمارے دادا صاحب اور ان کے بھائی مرزا غلام محی الدین صاحب کے قلعہ بسر اواں میں قید کئے جانے کا واقعہ غالبا اسی زمانہ کا ہے۔اس کے بعد انگریز آئے تو انہوں نے ہماری خاندانی جاگیر ضبط کر لی۔اور صرف سات سو روپیہ سالانہ کی ایک اعزازی پینشن نقدی کی صورت میں مقرر کر دی جو ہمارے دادا صاحب کی وفات پر صرف ایک سواستی رہ گئی اور پھر تا یا