سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 406
سیرت المہدی 406 حصہ دوم موعود علیہ السلام کا کوئی دعوئی وغیرہ نہیں تھا اور میں نے آپ کا نام تک نہیں سُنا تھا کہ مجھے خواب میں ایک نظارہ دکھایا گیا جس میں میں نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا اور آپ کے ساتھ بہت سے عالی مرتبہ صحابہ بھی تھے اور اس جماعت میں ایک شخص ایسا تھا جس کا لباس وغیرہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ سے مختلف تھا اس کے متعلق میں نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ یہ کون شخص ہے؟ جس پر آپ نے فرمایا هذا عیسى یعنی یہ ایسے صحیح ہیں اور آپ نے فرمایا کہ یہ قادیان میں رہتا ہے اور تم اس پر ایمان لانا اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور میں نے قادیان کی تلاش شروع کی اور ضلع لدھیانہ میں ایک قادیان گاؤں ہے وہاں آیا گیا مگر کچھ پتا نہ چلا۔آخر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب لدھیانہ تشریف لے گئے تو میں آپ کا نام سُن کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے دیکھتے ہی آپ کو پہچان لیا کہ یہ وہی ہیں جو مجھے آنحضرت ﷺ کے ساتھ خواب میں دکھائے گئے تھے اور جن کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ یہ عیسی ہیں تم اس پر ایمان لانا مگر اس وقت آپ کو مسیحیت کا کوئی دعوی نہ تھا اور نہ ہی سلسلہ بیعت شروع ہوا تھا غرض اس وقت سے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معتقدین میں شامل ہو گیا اور جب پہلی دفعہ لدھیانہ میں بیعت ہوئی تو میں نے پہلی بیعت کے دوسرے دن چونسٹھ نمبر پر بیعت کی اور پہلے دن سب سے پہلی بیعت حضرت مولوی نور الدین صاحب نے کی تھی اور ان کے دوسرے نمبر پر شائد میر عباس علی نے کی تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حافظ صاحب بہت پرانے آدمیوں میں سے ہیں اور ان دنوں قادیان ہجرت کر کے آگئے ہیں اور معمر آدمی ہیں۔6444 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور احمد صاحب لدھیانوی نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب کہ میں قادیان میں آیا ہوا تھا حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ امرتسر سے کچھ سودا منگوانا ہے آپ جا کر لے آئیں اور آپ نے مجھے بٹالہ تک سواری کے لئے اپنا گھوڑا دینا چاہا مگر میں نے یہ کہ کر عذر کیا کہ حضور گھوڑے کو میں کہاں سنبھالتا پھروں گا میں بٹالہ تک پیدل ہی چلا جاتا ہوں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ نہیں بٹالہ میں میاں عبد الرحیم صاحب ہیں ان کے مکان پر گھوڑا چھوڑ جانا اور آتے ہوئے لے آنا۔میں