سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 35
سیرت المہدی 35 حصہ اوّل 47 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یوں تو الہامات کا سلسلہ بہت پہلے سے شروع ہو چکا تھا لیکن وہ الہام جس میں آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اصلاح خلق کے لئے صریح طور پر مامور کیا گیا مارچ ۱۸۸۲ء میں ہوا جب کہ آپ براہین احمدیہ حصہ سوئم تحریر فرمارہے تھے دیکھو براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ ۲۳۸) لیکن اس وقت آپ نے سلسلہ بیعت شروع نہیں فرمایا بلکہ اس کے لئے مزید حکم تک توقف کیا چنا نچہ جب فرمان الہی نازل ہوا تو آپ نے بیعت کے لئے دسمبر ۱۸۸۸ء میں اعلان فرمایا اور بذریعہ اشتہار لوگوں کو دعوت دی اور شروع ۱۸۸۹ء میں بیعت لینا شروع فرما دی لیکن اس وقت تک بھی آپ کو صرف مجد دو مامور ہونے کا دعوی تھا اور گو شروع دعوی ماموریت سے ہی آپ کے الہامات میں آپ کے مسیح موعود ہونے کی طرف صریح اشارات تھے لیکن قدرت الہی کہ ایک مدت تک آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعوی نہیں کیا بلکہ صرف یہ فرماتے رہے کہ مجھے اصلاح خلق کے لئے مسیح ناصری کے رنگ میں قائم کیا گیا ہے اور مجھے مسیح سے مماثلت ہے۔اس کے بعد شروع ۱۸۹۱ء میں آپ نے حضرت مسیح ناصری کی موت کے عقیدہ کا اعلان فرمایا اور یہ دعویٰ فرمایا کہ جس مسیح کا اس امت کے لئے وعدہ تھا وہ میں ہوں۔آپ کی عام مخالفت کا اصل سلسلہ اسی دعویٰ سے شروع ہوتا ہے۔آپ کے نبی اور رسول ہونے کے متعلق بھی ابتدائی الہامات میں صریح اشارے پائے جاتے ہیں مگر اس دعوئی سے بھی مشیت ایزدی نے آپ کو رو کے رکھاتی کہ بیسویں صدی کا ظہور ہو گیا تب جا کر آپ نے اپنے متعلق نبی اور رسول کے الفاظ صراحتا استعمال فرمانے شروع کئے۔اور خاص طور پر مثیل کرشن علیہ السلام ہونے کا دعوی تو آپ نے اس کے بھی بہت بعد یعنی ۱۹۰۴ء میں شائع کیا۔اور یہ سب کچھ خدائی تصرف کے ماتحت ہوا آپ کا اس میں ذرہ دخل نہیں تھا۔آنحضرت ﷺ کے حالات زندگی میں بھی یہی تدریجی ظہور نظر آتا ہے اور اس میں کئی حکمتیں ہیں جن کے بیان کی اس جگہ گنجائش نہیں۔48 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے دادا صاحب کے دادا یعنی مرزا گل محمد صاحب بڑے پارسا اور متقی اور علم دوست آدمی تھے۔ان کے زمانہ میں قادیان باعمل علماء کا ایک مرکز تھا۔مگر