سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 390 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 390

سیرت المہدی 390 حصہ دوم تھا۔اس لئے بھی کمرہ کا ریز رو کرانا ضروری ہوتا تھا تا کہ حضور اور حضرت والدہ صاحبہ وغیرہ اطمینان کے ساتھ اپنے کمرہ کے اندر تشریف رکھ سکیں اور بعض اوقات حضور ملاقات کرنے کے لئے گاڑی سے باہر نکل کرسٹیشن پر تشریف لے آیا کرتے تھے۔مگر عموماً گاڑی ہی میں بیٹھے ہوئے کھڑکی میں سے ملاقات فرما لیتے تھے اور ملنے والے لوگ باہر سٹیشن پر کھڑے رہتے تھے۔نیز مفتی صاحب نے بیان فرمایا کہ جس سفر میں حضرت ام المومنین حضور کے ساتھ نہیں ہوتی تھیں اس میں میں حضور کے قیام گاہ میں حضور کے کمرہ کے اندر ہی ایک چھوٹی سی چار پائی لے کر سورہتا تھا تا کہ اگر حضور کو رات کے وقت کوئی ضرورت پیش آئے تو میں خدمت کر سکوں چنانچہ اس زمانہ میں چونکہ مجھے ہوشیار اور فکرمند ہو کر سونا پڑتا تھا تا کہ ایسا نہ ہو حضرت صاحب مجھے کوئی آواز دیں اور میں جاگنے میں دیر کروں اس لئے اس وقت سے میری نیند بہت ہلکی ہوگئی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اگر کبھی مجھے آواز دیتے تھے اور میری آنکھ نہ ھلتی تھی تو حضور آہستہ سے اُٹھ کر میری چارپائی پر آکر بیٹھ جاتے تھے اور میرے بدن پر اپنا دست مبارک رکھ دیتے تھے جس سے میں جاگ پڑتا تھا اور سب سے پہلے حضور وقت دریافت فرماتے تھے اور حضور کو جو الہام ہوتا تھا حضور مجھے جگا کر نوٹ کر وا دیتے تھے۔چنانچہ ایک رات ایسا اتفاق ہوا کہ حضور نے مجھے الہام لکھنے کیلئے جگایا مگر اس وقت اتفاق سے میرے پاس کوئی قلم نہیں تھا چنانچہ میں نے ایک کوئلہ کا ٹکڑا لے کر اس سے الہام لکھا لیکن اس وقت کے بعد سے میں با قاعدہ پنسل یا فاؤنٹین پین اپنے پاس رکھنے لگ گیا۔431 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عموما صبح کے وقت سیر کیلئے تشریف لے جایا کرتے تھے اور عموماً بہت سے اصحاب حضور کے ساتھ ہو جاتے تھے۔تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے بعض طالب علم بھی حضور کے ساتھ جانے کے شوق میں کسی بہانہ وغیرہ سے اپنے کلاس روم سے نکل کر حضور کے ساتھ ہو لیتے تھے۔اساتذہ کو پتہ لگتا تھا تو تعلیم کے حرج کا خیال کر کے بعض اوقات ایسے طلبہ کو بلا اجازت چلے جانے پر سز او غیرہ بھی دیتے تھے مگر بچوں کو کچھ ایسا شوق تھا کہ وہ عموماً موقعہ لگا کر نکل ہی جاتے تھے۔