سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 389 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 389

سیرت المہدی 389 حصہ دوم جانب کھڑے ہوا کرتے تھے۔اور کبھی ایک دفعہ بھی آپ مصلے کے وسط میں یا دائیں جانب کھڑے نہیں ہوئے اور اب حضرت خلیفہ ثانی کا بھی یہی طریق ہے۔اور ایسا غالبا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احترام کے خیال سے کیا جاتا ہے۔واللہ اعلم۔430 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب کسی سفر پر تشریف لے جانے لگتے تھے تو عموماً مجھے فرما دیتے تھے کہ ساتھ جانے والوں کی فہرست بنالی جاوے اور ان دنوں میں جو مہمان قادیان آئے ہوئے ہوتے تھے۔ان میں سے بھی بعض کے متعلق فرما دیتے تھے کہ ان کا نام لکھ لیں اور اوائل میں حضرت صاحب انٹر کلاس میں سفر کیا کرتے تھے اور اگر حضرت بیوی صاحبہ ساتھ ہوتی تھیں تو ان کو اور دیگر مستورات کو زنانہ تھرڈ کلاس میں بٹھا دیا کرتے تھے۔اور حضرت صاحب کا یہ طریق تھا کہ زنانہ سواریوں کو خو د ساتھ جا کر اپنے سامنے زنانہ گاڑیوں میں بٹھاتے تھے۔اور پھر اس کے بعد خود اپنی گاڑی میں اپنے خدام کے ساتھ بیٹھ جاتے تھے۔اور جس سٹیشن پر اتر نا ہوتا تھا اس پر بھی خود زنانہ گاڑی کے پاس جا کر اپنے سامنے حضرت بیوی صاحبہ کو اتارتے تھے۔مگر دوران سفر میں سٹیشنوں پر عموماً خود اتر کر زنانہ گاڑی کے پاس دریافت حالات کے لئے نہیں جاتے تھے۔بلکہ کسی خادم کو بھیج دیا کرتے تھے۔اور سفر میں حضرت صاحب اپنے خدام کے آرام کا بہت خیال رکھا کرتے تھے اور آخری سالوں میں حضور عموماً ایک سالم سیکنڈ کلاس کمرہ اپنے لئے ریز رو کر والیا کرتے تھے اور اس میں حضرت بیوی صاحبہ اور بچوں کے ساتھ سفر فرماتے تھے۔اور حضور کے اصحاب دوسری گاڑی میں بیٹھتے تھے۔مگر مختلف سٹیشنوں میں اتر اتر کر وہ حضور سے ملتے رہتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضور الگ کمرہ کو اس خیال سے ریزرو کروالیتے تھے کہ تا کہ حضرت والدہ صاحبہ کو علیحدہ کمرہ میں تکلیف نہ ہو۔اور حضور اپنے اہل وعیال کے ساتھ اطمینان کے ساتھ سفر کر سکیں نیز آخری ایام میں چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفر کے وقت عموماً ہر ٹیشن پر سینکڑوں ہزاروں زائرین کا مجمع ہوتا تھا اور ہر مذہب اور ملت کے لوگ بڑی کثرت کے ساتھ حضور کو دیکھنے کے لئے جمع ہو جاتے تھے۔اور مخالف و موافق ہر قسم کے لوگوں کا مجمع ہوتا