سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 388
سیرت المہدی 388 حصہ دوم میں ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کرنے کیلئے قادیان آیا تو اس وقت نماز ظہر کے قریب کا وقت تھا اور میں مہمان خانہ میں وضو کر کے مسجد مبارک میں حاضر ہوا۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں ہی تشریف رکھتے تھے اور حضور کے بہت سے اصحاب حضرت کے پاس بیٹھے تھے۔میں بھی مجلس کے پیچھے ہو کر بیٹھ گیا۔اس وقت شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور چشمہ معرفت کیلئے سکھ مذہب کے متعلق بعض حوالجات حضور کے سامنے پیش کر رہے تھے اور حضور کبھی کبھی ان کے متعلق گفتگو فرماتے تھے اور بعض دفعہ ہنستے بھی تھے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ حضور کے بائیں طرف بیٹھے تھے۔میں جب آکر بیٹھا تو مجھے کچھ وقت تک یہ شبہ رہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کون ہیں۔کیونکہ میں حضرت مولوی صاحب اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درمیان پوری طرح یہ فیصلہ نہیں کر سکا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ ہیں یا وہ۔لیکن پھر گفتگو کے سلسلہ میں مجھے سمجھ آگئی۔جب حوالہ جات کے متعلق گفتگو بند ہوئی تو میں بیعت کی خواہش ظاہر کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف آگے بڑھنے لگا۔جس پر سید احمد نور صاحب کا بلی نے کسی قدر بلند آواز سے کہا کہ یہ شخص مسلمان ہونا چاہتا ہے اسے رستہ دے دیا جاوے۔میں دل میں حیران ہوا کہ مسلمان ہونے کے کیا معنی ہیں۔لیکن پھر ساتھ ہی خیال آیا کہ واقعی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں داخل ہونا مسلمان ہونا نہیں ہے تو اور کیا ہے۔چنانچہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہو گیا اس وقت میرے ساتھ ایک اور شخص نے بھی بیعت کی تھی بیعت کے بعد دعا کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز کے لئے کھڑے ہو گئے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب نے نماز کرائی اور حضرت مسیح موعود نے پہلی صف سے آگے حضرت مولوی صاحب کے ساتھ جانب شمال حضرت مولوی صاحب کی اقتدا میں نماز ادا کی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز فریضہ ادا کرتے ہی اندرون خانہ تشریف لے گئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود آخری ایام میں ہمیشہ امام کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے اور آپ کے وصال کے بعد حضرت خلیفہ اول ہمیشہ مصلے پر آپ والی جگہ کو چھوڑ کر بائیں