سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 387 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 387

سیرت المہدی 387 حصہ دوم سعادت کا تم قائم رہا ہے لیکن اس تخم کو نشو ونما دینے والے عناصر اسے میسر نہیں آئے اور وہ ہمیشہ بدصحبت اور غافل کن حالات میں گھرا رہنے کی وجہ سے بداعمالی کا مرتکب ہوتا رہا ہے۔مگر اس کا فطری میلان ایسا تھا کہ اگر اسے نیکی کی طرف مائل کرنے والے حالات پیش آتے تو وہ بدی کو ترک کر کے نیکی کو اختیار کر لیتا تو ایسا شخص یقیناً خدا کی بخشش خاص سے حصہ پائے گا۔علاوہ ازیں حق یہ ہے کہ گوگوئی خشک مزاج مولوی میرے اس ریمارک پر چونکے لیکن خدا کی بخشش اور رحم کیلئے کوئی قاعدہ اور قانون تلاش کرنا یہ محض لاعلمی اور تنگ خیالی کی باتیں ہیں۔اس کے عذاب وسزا کے واسطے بیشک قواعد اور قوانین موجود ہیں جو خود اس نے بیان فرما دیئے ہیں۔لیکن اسکے رحم کے واسطے کوئی قانون نہیں کیونکہ اس کی یہ صفت کسی نہ کسی صورت میں ہر وقت ہر چیز پر ہر حالت میں اور ہر جگہ جاری رہتی ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷ ( یعنی میرا اعذاب تو صرف میری مقرر کردہ قانون کے ماتحت خاص خاص حالتوں میں پہنچتا ہے لیکن میری رحمت ہر وقت ہر چیز پر وسیع ہے۔اس آیت کریمہ میں جو مَنُ اشَاء کا لفظ ہے اس سے یہ مراد نہیں کہ خدا کا عذاب تو اس کی مرضی کے ماتحت ہے لیکن اس کی رحمت مرضی کے حدود کو تو ڑ کر ہر چیز پر وسیع ہوگئی ہے۔بلکہ بات یہ ہے کہ یہ لفظ قر آنی محاورہ کے ماتحت خدائی قانون کی طرف اشارہ کرنے کیلئے آتا ہے یعنی مراد یہ ہے کہ خدا کا عذاب اس کے قانون کے ماتحت خاص خاص حالتوں میں آتا ہے لیکن خدا کی رحمت کیلئے کوئی قانون نہیں ہے۔بلکہ وہ صرف خدا کی مرضی اور خوشی پر موقوف ہے اور چونکہ خدا کی صفت رحمت اس کی ہر دوسری صفت پر غالب ہے اس لئے اس کی یہ صفت ہر وقت ہر چیز پر ظاہر ہو رہی ہے اور بسا اوقات اس کی رحمت ایسے رنگ میں ظاہر ہوتی ہے کہ انسان کی کو نہ نظر اس کا موجب دریافت کرنے سے قاصر رہتی ہے اور ممکن ہے کہ بعض صورتوں میں اس کا کوئی بھی موجب نہ ہوتا ہو سوائے اس کے کہ خدا رحیم ہے اور اپنے پیدا کردہ بندے پر رحم کرنا چاہتا ہے اور بس۔والله اعلم۔429 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد اسماعیل صاحب مولوی فاضل نے مجھ سے بیان کیا کہ جب