سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 382
سیرت المہدی 382 حصہ دوم بات ہے۔انسان کو حتی الوسع اپنے لئے ہمیشہ اچھے دوستوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔لیکن جب کسی کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم ہو جائیں تو پھر ان تعلقات کا نبھانا بھی ضروری ہوتا ہے اور صرف اس وجہ سے کہ دوست کی طرف سے کو ئی عملی کمزوری ظاہر ہوئی ہے یا یہ کہ اس کے اندر کوئی کمزوری پیدا ہوگئی ہے۔تعلقات کا قطع کرنا جائز نہیں ہوتا بلکہ ایسے وقت میں خصوصیت کے ساتھ ہمدردی اور محبت اور دوستانہ نصیحت کو کام میں لانا چاہیے اور یہ خیال نہ کرنا چاہیے کہ لوگ یہ اعتراض کریں گے کہ ایک خراب آدمی کے ساتھ کیوں تعلقات رکھے جاتے ہیں۔مومن کو لوگوں کے گندوں کو دھونے کیلئے پیدا کیا گیا ہے اگر وہ ایسے موقعوں پر چھوڑ کر الگ ہو جائے گا تو علاوہ بے وفائی کا مرتکب ہونے کے اپنے فرض منصبی میں بھی کوتاہی کرنے والا ٹھہر یگا۔ہاں بے شک جس شخص کی اپنی طبیعت کمزور ہو اور اس کے متعلق یہ اندیشہ ہو کہ وہ بجائے اپنا نیک اثر ڈالنے کے خود دوسرے کے ضرر رساں اثر کو قبول کرنا شروع کر دیگا تو ایسے شخص کیلئے یہی ضروری ہے کہ وہ اپنے اس قسم کے دوست سے میل جول ترک کر دے اور صرف اپنے طور پر خدا تعالیٰ سے اس کی اصلاح کے متعلق دعائیں کرتا رہے۔بچے بھی بوجہ اپنے علم اور عقل اور تجربہ کی خامی کے اس قسم کے اندر شامل ہیں یعنی بچوں کو بھی چاہیے کہ جب اپنے کسی دوست کو بد اعمالی کی طرف مائل ہوتا دیکھیں یا جب ان کے والدین یا گارڈین انہیں کسی خراب شخص کی دوستی سے منع کریں تو آئندہ اس کی صحبت کو کلیہ ترک کر دیں۔“ 422 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ دعولی مسیحیت سے قبل مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بہت تعلق تھا چنانچہ مجھے یاد ہے کہ قادیان سے انبالہ چھاؤنی جاتے ہوئے آپ مع اہل وعیال کے مولوی محمد حسین صاحب کے مکان پر بٹالہ میں ایک رات ٹھہرے تھے اور مولوی صاحب نے بڑے اہتمام سے حضرت صاحب کی دعوت کی تھی نیز ڈاکٹر صاحب موصوف نے بیان کیا کہ جس جس جگہ حضرت والد صاحب ( یعنی خاکسار کے نانا جان مرحوم) کا قیام ہوتا تھا وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی عموماً تشریف لایا کرتے تھے مثلاً انبالہ چھاؤنی لدھیانہ۔پٹیالہ۔فیروز پور چھاؤنی میں آپ تشریف لے گئے تھے اور سب سے زیادہ آپ لدھیانہ میں