سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 377 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 377

سیرت المہدی 377 حصہ دوم انکار کر دیا اس وقت لوگوں میں ایک عجیب اضطراب اور غیظ و غضب کی حالت تھی۔اور کوئی کچھ کہتا تھا اور کوئی کچھ اور کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی تھی۔۔اس موقع پر علیگڑھ کے ایک رئیس اور آنریری مجسٹریٹ محمد یوسف صاحب نے حضرت صاحب کے پاس آکر کہا کہ لوگوں کے اندر یہ سخت شور ہے کہ آپ کا عقیدہ خلاف اسلام ہے۔اگر یہ درست نہیں تو آپ اپنا عقیدہ لکھ دیں تا کہ میں لوگوں کو بلند آواز سے سُنا دوں۔حضرت صاحب نے فوراً لکھ دیا کہ میں مسلمان ہوں اور آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان لاتا ہوں اور شریعت قرآنی کو خدا کی آخری شریعت یقین کرتا ہوں اور مجھے کسی اسلامی عقیدہ سے انکار نہیں وغیر ذالک۔ہاں میرے نزدیک قرآن سے یہ بات ثابت ہے کہ مسیح ناصری جو بنی اسرائیل کی طرف رسول ہو کر آئے تھے فوت ہو چکے ہیں۔محمد یوسف صاحب نے بہت کوشش کی کہ حضرت صاحب کی اس تحریر کو بلند آواز سے سُنا دیں۔مگر مولویوں نے جن کی نیت میں فساد تھا۔سُنانے نہ دیا اور لوگوں میں ایک شور پیدا ہو گیا۔اور مولویوں کے بہکانے اور اشتعال دلانے سے وہ سخت غیظ و غضب میں بھر گئے جب افسر پولیس نے یہ حالت دیکھی کہ لوگوں کی آنکھوں سے خون ٹپک رہا ہے۔اور وہ اپنے آپ سے باہر ہوئے جاتے ہیں۔تو اس نے اپنے ماتحت افسر کو حکم دیا کہ فورا مجمع کو منتشر کر دیا جائے جس پر اس پولیس افسر اور محمد یوسف صاحب آنریری مجسٹریٹ نے بلند آواز سے کہہ دیا کہ کوئی مباحثہ وغیرہ نہیں ہو گا سب صاحب چلے جاویں۔اور پولیس کے سپاہیوں نے لوگوں کو منتشر کرنا شروع کر دیا۔اس وقت سب سے پہلے مولوی نذیر حسین صاحب اور اُن کے شاگرد اور دوسرے مولوی رخصت ہوئے کیونکہ وہ دروازہ کے قریب بیٹھے تھے۔پس انہوں نے موقع کو غنیمت جانا اور چل دئیے جب زیادہ لوگ مسجد سے نکل گئے تو حضرت صاحب بھی اُٹھ کر باہر تشریف لائے اور بہت سے سپاہی اور پولیس افسر آپ کے اردگرد تھے جب آپ دروازہ شمالی پر آئے تو آپ کے خادموں نے اپنی گاڑیاں تلاش کیں۔کیونکہ ان کو آنے جانے کا کرایہ دینا کر کے ساتھ لائے تھے اور کرا یہ پیشگی دے دیا گیا تھا لیکن معلوم ہوا کہ لوگوں نے ان کے مالکوں کو بہ کا کر روانہ کردیا تھا اور دوسری بھی کوئی گاڑی ایک منٹم ٹانگہ پاس نہ آنے دیتے