سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 348
سیرت المہدی 348 حصہ دوم خادمہ عورتوں تک سے پوچھا کرتے تھے کہ کیا تم نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے دیکھا ہوتا تو بڑے غور اور توجہ سے اسے سنتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ آج کل کی مادیت کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ لوگ خوابوں کے قائل نہیں رہے اور انہیں کلیۂ جسمانی عوارض کا نتیجہ سمجھتے ہیں حالانکہ گو اس میں شک نہیں کہ بعض خواہیں جسمانی عوارض کا نتیجہ بھی ہوتی ہیں لیکن یہ بھی ایک ابدی حقیقت ہے کہ خدا کی طرف سے آئندہ ہونے والے امور یا مخفی باتوں کے متعلق خواب میں نظارے دکھائے جاتے ہیں۔جو وقت پر پورے ہو کر خوابوں کی سچائی پر مہر تصدیق کا کام دیتے ہیں اور ان سے انکار کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی آدمی دوسری محسوس و مشہور چیزوں کا انکار کر دے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب ہمیشہ اپنے تعلیمی امتحانوں میں اعلیٰ نمبروں پر کامیاب ہوتے رہے ہیں اور ان کا اس دفعہ انٹرنس میں فیل ہونا اس وجہ سے تھا کہ اس سال چونکہ لیکھرام کے قتل کی وجہ سے ہندوؤں میں بہت سخت مخالفت تھی اس لئے بہت سے مسلمان بچے ہندو ممتحنوں کے غیظ و غضب کا شکار ہو گئے تھے۔کیونکہ اس زمانہ میں بچوں کو امتحان کے پر چوں پر اپنے نام لکھنے پڑتے تھے جس سے ممتحن کو ہندو مسلمان کا پتہ چل جاتا تھا۔384 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جب مبارک احمد فوت ہو گیا اور مریم بیگم جس کے ساتھ اس کی شادی ہوئی تھی بیوہ رہ گئی تو حضرت صاحب نے گھر میں ایک دفعہ یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ یہ لڑ کی ہمارے گھر میں ہی آجاوے تو اچھا ہے۔یعنی ہمارے بچوں میں ہے سے ہی کوئی اس کے ساتھ شادی کرلے تو بہتر ہے۔چنانچہ خاکسار عرض کرتا ہے کہ زیادہ تر ای بنا پر حضرت خلیفتہ المسیح ثانی نے مریم بیگم سے شادی کی ہے نیز والدہ صاحبہ بیان کرتی تھیں کہ جب حضرت صاحب کے سامنے تم لڑکوں کی شادی کی تجویز ہوتی تھی اور کبھی یہ خیال ظاہر کیا جاتا تھا کہ فلاں لڑکی کی عمر لڑکے کی عمر کے قریباً قریباً برابر ہے۔جس سے بڑے ہو کر لڑکے کو تکلیف کا اندیشہ ہے۔کیونکہ عموماً عورت جلد بوڑھی ہو جاتی ہے اور مرد کے قومی دیر تک قائم رہتے ہیں تو حضرت صاحب فرماتے تھے کہ کوئی حرج نہیں ہے۔اگر ضرورت ہوگی تو بڑے ہو کر بچے اور شادی کر لیں گے۔نیز والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ حضرت صاحب اس بات کو پسند