سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 328
سیرت المہدی 328 حصہ دوم مسلمان کے واسطے بہر حال قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت مسلّم ہے۔پس کیا وجہ ہے کہ زید و بکر کے متعلق وہ ایسی باتوں کو سچا تسلیم کرے۔جو قرآن مجید اور آنحضرت ﷺ میں بھی نہیں پائی جاتیں۔مسلمانوں میں ولیوں اور بزرگوں کے متعلق ایسے ایسے مبالغہ آمیز اور لا یعنی قصے اور خوارق مشہور ہیں کہ سُن کر حیرت آتی ہے اور تعجب ہے کہ یہ قصے صرف زبانوں تک محدود نہیں بلکہ بدقسمتی سے مسلمانوں کے لٹریچر میں بھی راہ پاچکے ہیں۔اس دھو کے کے پیدا ہونے کی ایک یہ وجہ بھی ہے۔کہ جیسا کہ میں نے اس کتاب کے حصہ اول میں لکھا تھا علم توجہ نے بھی مسلمانوں کو بہت تباہ کیا ہے۔یہ علم ایک مفید علم ہے اور اس سے کئی صورتوں میں فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے لیکن اس کا غلط استعمال بھی اپنی نقصان رسانی میں کچھ کم نہیں۔مسلمانوں میں جب روحانیت کم ہوئی اور لا مذہبی اور مادیت کا رنگ پیدا ہونے لگا تو جولوگ نیک اور متقی تھے ان کو اس کا فکر پیدا ہوالیکن وہ اپنی روحانی حالت کو بھی ایسا قوی نہ پاتے تھے کہ ضلالت کے اس طوفان کو د باسکیں۔پس انہوں نے عوام کو تباہی سے بچانے کے لئے یہ راہ نکالی کہ علم توجہ سے جسے انگریزی میں Hypnotism کہتے ہیں کام لینا شروع کیا اور مذہب کی آڑ میں اس علم سے لوگوں کو مسخر کرنا چاہا۔چنانچہ وقتی طور پر اس کا فائدہ بھی ہوا اور لوگ مادیت اور جھوٹی آزادی کی رو میں بہہ جانے سے ایک حد تک بچ گئے۔مگر یہ خطرناک نقصان بھی ساتھ ہی ہوا کہ آہستہ آہستہ ایک طرف تو خود توجہ کرنے والے بزرگ اس امر کی اصلی حقیقت سے نا آشنا ہوتے گئے اور دوسری طرف عوام اس نشہ میں ایسے مخمور ہوئے کہ بس اسی کو دین و مذہب اور اسی کو روحانیت اور اسی کو جذب واثر قرار دینے لگے اور ولایت کا ایک نہایت غلط معیار ان کے اندر قائم ہو گیا۔حالانکہ علم توجہ دنیا کے علموں میں سے ایک علم ہے جسے مذہب کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔بلکہ ہر شخص اپنی محنت اور استعداد کے مطابق اسے کم و بیش حاصل کر سکتا ہے گویا جس طرح ایک رونے والے بچے کو ماں اپنے آرام کے لئے افیم کی چاٹ لگا دیتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ وہ بچہ افیم کو ہی اپنی غذا سمجھنے لگ جاتا ہے اور اس کے ملنے پر تسکین و راحت پاتا ہے اور اس کے بغیر روتا اور چلاتا اور تکلیف محسوس کرتا ہے اسی طرح