سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 27 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 27

سیرت المہدی 27 حصہ اوّل پوچھا کہ کیا حضرت صاحب نے کچھ فرمایا بھی تھا ؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ صرف اس قدر فرمایا تھا کہ ہمارا اس کے ساتھ تعلق تو نہیں تھا مگر مخالف اس کی موت کو بھی اعتراض کا نشانہ بنالیں گے۔خاکسار عرض کرتا ہے که محمدی بیگم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چازاد بہن عمر النساء کی لڑکی ہے یعنی مرزا نظام الدین و مرزا امام الدین وغیرہ کی حقیقی بھانجی ہے۔ہماری تائی یعنی بیوہ مرزا غلام قادر صاحب محمدی بیگم کی سگی خالہ ہیں گویا مرزا احمد بیگ صاحب ہوشیار پوری جو محمدی بیگم کا والد تھا مرزا امام الدین وغیرہ کا بہنوئی تھا اس کے علاوہ اور بھی خاندانی رشتہ داریاں تھیں مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی حقیقی ہمشیرہ مرزا احمد بیگ کے بڑے بھائی مرزا غلام غوث صاحب کے ساتھ بیاہی گئی تھیں۔یہ بہت پرانی بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ تمام رشتہ دار پر لے درجہ کے بے دین اور لامذہب تھے اور اسلام سے ان کو کوئی واسطہ نہیں تھا بلکہ شریعت کی ہتک کرتے تھے۔حضرت صاحب نے ان کی یہ حالت دیکھ کر خدا کی طرف توجہ کی کہ ان کے لئے کوئی نشان ظاہر ہو تا کہ ان کی اصلاح ہو یا کوئی فیصلہ ہو۔اس پر خدا نے الہام فرمایا کہ احمد بیگ کی لڑکی محمدی بیگم کے لئے سلسلہ جنبانی کر۔اگر انہوں نے منظور کر لیا اور اس لڑکی کی تیرے ساتھ شادی کر دی تو پھر یہ لوگ برکتوں سے حصہ پائیں گے۔اگر انہوں نے انکار کیا تو پھر ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔اور ان کے گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے اور خاص لڑکی کے والد کے متعلق فرمایا کہ وہ تین سال کے اندر بلکہ بہت جلدی مر جائے گا اور جس شخص کے ساتھ لڑکی کا نکاح ہوگا وہ بھی اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا۔ان دو مؤخر الذکر شخصوں کے متعلق جس طرح اللہ کا نشان پورا ہوا وہ حضرت مسیح موعود کی کتب میں متعدد جگہ درج ہے یعنی احمد بیگ اپنی لڑکی کے نکاح کے صرف چند ماہ بعد پیشگوئی کے مطابق اس جہاں سے رخصت ہوا اور مرزا سلطان محمد جس سے ان لوگوں نے محمدی بیگم کی شادی کروادی تھی خدا کے عذاب سے خوف زدہ ہوا اور اس کے کئی رشتہ داروں کی طرف سے حضرت صاحب کے پاس عجز و نیاز کے خطوط آئے چنانچہ ان کا اپنا خط بھی جس میں انہوں نے حضرت صاحب کے متعلق عقیدت کا اظہار کیا ہے رسالہ تشخیز الا ذہان میں چھپ چکا ہے اس لئے سنت اللہ کے مطابق ان سے وہ عذاب ٹل گیا۔باقی رشتہ داروں کے متعلق عام پیشگوئی تھی اس کا یہ اثر ہوا کہ ان کے گھر جو پیشگوئی کے وقت آدمیوں سے بھرے ہوئے تھے بالکل خالی ہو گئے۔اور اب