سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 315
سیرت المہدی 315 حصہ دوم 346 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں غلام نبی صاحب سیٹھی نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب کہ میں قادیان میں تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئینہ کمالات اسلام تصنیف فرما رہے تھے حضرت صاحب نے جماعت کے ساتھ مشورہ فرمایا کہ علماء اور گدی نشینوں میں کس طرح تبلیغ ہونی چاہیے۔۔اس کے متعلق باہم تبادلہ خیالات شروع ہوا۔حضرت نے فرمایا کہ ان لوگوں کے لئے تو عربی زبان میں کوئی تصنیف ہونی چاہیے مگر مشکل یہ ہے کہ میں کوئی ایسی اچھی عربی جانتا نہیں ہوں۔ہاں میں اردو میں مضمون لکھ لاتا ہوں اور پھر مل ملا کر عربی کر لیں گے۔چنانچہ حضرت صاحب اندرون خانہ تشریف لے گئے اور پھر جب حضور باہر تشریف لائے تو کچھ عربی لکھ کر ساتھ لائے جسے دیکھ کر مولوی نور الدین صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب حیران رہ گئے حتی کہ مولوی عبد الکریم صاحب نے فرمایا کہ میں نے عربی کا بہت مطالعہ کیا ہے لیکن ایسی عمدہ عربی میں نے کہیں نہیں دیکھی۔حضور نے فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے متعلق دُعا کی تھی سوخدا کی طرف سے مجھے چالیس ہزار مادہ عربی زبان کا سکھایا گیا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ عربی زبان کا علم معجزانہ طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیا گیا تھا حتی کہ آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ خواہ ساری دنیا کے علماء اور عرب اور مصر اور شام کے ادیب باہم مل کر میرا مقابلہ کرنا چاہیں مگر خدا ان کو عربی کی تصنیف میں میرے مقابلہ میں ذلت کی شکست دیگا۔اور وہ ہرگز میرے جیسا پر مغز اور لطیف اور ملیح اور فصیح اور بلیغ کلام تصنیف نہیں کر سکیں گے۔چنانچہ باوجود آپ کے متعدد مرتبہ چیلنج دینے کے کسی کو آپ کے مقابلہ میں آنے کی جرات نہیں ہوئی کیونکہ سب کے دل محسوس کرتے تھے کہ آپ کا عربی کلام اپنی معنوی اور ادبی خوبیوں کی وجہ سے ان کے دائرہ قدرت سے باہر ہے اور یہ سب کچھ ایک ایسے شخص کے ہاتھ پر ظہور پذیر ہوا جس کا مطالعہ جہاں تک ادب عربی کی درسی تعلیم کا تعلق ہے بالکل معمولی تھا اور جس نے صرف عام معروف درسی کتب اوائل عمر میں استاد سے پڑھی تھیں اور بس مگر جب خدا نے اپنے پاس سے اپنی تقدیر خاص کے ماتحت اسے علم عطا کیا تو پھر وہی تھا کہ عرب و عجم کوللکارتا تھا کہ کوئی میرے مقابلہ میں آئے مگر کسی کو سر اُٹھانے کی جرات نہ ہوتی تھی۔کسی نے کیا خوب کہا ہے وو جے تو اُسدا ہو رہیں تے سب جگ تیرا ہو 66